’ٹرمپ صدر نہیں بن سکتے کیونکہ یہ ایک سنجیدہ کام ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی ماضی میں صدر اوباما کے خلاف متنازع خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ملک کے صدر نہیں بن سکتے کیونکہ صدارت ایک ’سنجیدہ کام‘ ہے۔

براک اوباما نے کہا کہ ’میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ ٹرمپ صدر نہیں بنیں گے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے امریکی عوام پر بہت اعتماد ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ ایک ارب پتی کاروباری شخصیت ہیں اور وہ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں اس وقت سب سے آگے ہیں۔

انھوں نے حال ہی میں نیو ہیمپشائر میں ہونے والا کاکس جیتا ہے جبکہ جنوبی کیرولائنا میں جہاں سنیچر کو ووٹ ڈالے جائیں گے، انتخابی جائزوں کے مطابق انھیں واضح برتری حاصل ہے۔

براک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں خیالات کا اظہار کیلیفورنیا میں آسیان اقتصادی سربراہ اجلاس کے موقع پر ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ووٹر انھیں نہیں چنیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ صدر بننا ایک سنجیدہ کام ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں اس وقت سب سے آگے ہیں

براک اوباما نے کہا کہ ’یہ کسی ٹاک سو یا ریئیلیٹی شو کی میزبانی نہیں اور نہ ہی مارکیٹنگ کی نوکری ہے۔ یہ مشکل ہے اور ایسا کام نہیں جو کسی دن خبروں میں رہنے کے لیے کیا جائے۔‘

اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اسے ایک ایسے صدر کی جانب سے تعریف سمجھتے ہیں جس نے ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی ماضی میں صدر اوباما کے خلاف متنازع خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں اور انھوں نے ان سے اس بات کا ثبوت بھی طلب کیا تھا کہ وہ امریکہ میں پیدا ہوئے تھے۔

ٹرمپ کی انتخابی مہم اپنے متنازع نعروں اور بیانات کی وجہ سے مسلسل خبروں میں رہی ہے۔

اس مہم کے دوران ٹرمپ نے ملک سے ایک کروڑ دس لاکھ غیرقانونی تارکینِ وطن کی بےدخلی، ملک کی جنوبی سرحد پر میکسیکو کے خرچ سے دیوار کی تعمیر اورملک میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگانے جیسے متنازع بیانات دیے ہیں۔

امریکی ریاست نیو ہیمپشائر میں ڈیمو کریٹک اور ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کے انتخاب کا مقابلہ بالترتیب سینیٹر برنی سینڈرز اور ارب پتی کاروباری شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ نے جیت لیا ہے۔

ریاست میں زیادہ تر مقامات پر پولنگ مقامی وقت کے مطابق منگل کی شام سات بجے (رات 12 بجے جی ایم ٹی) ختم ہوگئی تھی اور حتمی نتائج آنے والے چند گھنٹوں میں متوقع ہیں۔

نیو ہیمپشائر آئیووا کے بعد دوسری امریکی ریاست ہے جہاں صدارتی امیدوار کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

آئیووا میں ان دونوں ہی امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تاہم اس مرتبہ ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار بننے کے خواہشمند سینڈرز اپنی حریف اور سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔

برنی سینڈرز نیو ہیمپشائر کی پڑوسی ریاست ورمونٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور اس ریاست میں سینڈرز کی جیت کی ہی پیشنگوئی کی جا رہی تھی۔

ووٹوں کی ابتدائی گنتی میں انھیں ہلیری کلنٹن پر واضح برتری حاصل رہی۔ آئیووا میں بھی برنی اور ہلیری کے مابین سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا تھا اور ہلیری بمشکل جیت پائی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلیری کلنٹن کو ڈیموکریٹک نظام کی حمایت حاصل ہے

فتح کے واضح آثار سامنے آنے کے بعد برنی سینڈرز نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’ہم ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو فتح ہمارا مقدر بنتی ہے۔ ہم جیت گئے۔ نیو ہیمپشائر! تمہارا شکریہ۔

ان کی مخالف ہلیری کلنٹن نے شکست تسلیم کرتے ہوئے برنی کو مبارکباد دی تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مہم کے دوران ہر ایک ووٹ کے حصول کے لیے مقابلہ کرتی رہیں گی۔

ڈیموکریٹ امیدوار کے انتخاب کے برعکس ری پبلکن صدارتی امیدوار کے انتخاب کے سلسلے میں سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا تاہم اس دوڑ میں پیش پیش ڈونلڈ ٹرمپ پہلی بار اپنی عوامی حمایت کو ووٹوں کی شکل دینے میں کامیاب رہے۔

نیو ہیمپشائر میں اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے نہ صرف اپنے ووٹروں کا شکریہ ادا کیا بلکہ ڈیموکریٹ امیدوار برنی سینڈرز کو بھی مبارکباد دی۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کاکس میں اوہایو کے گوربر جان کیسچ دوسرے نمبر پر رہے ہیں جبکہ فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش اور آئیووا کاکس کے فاتح ٹیڈ کروز کے درمیان تیسری پوزیشن کے لیے مقابلہ رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption رپبلکن پارٹی کی جانب سے اس دوڑ میں پیش پیش ارب پتی تاجرڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کے امکانات بڑھ گئےہیں

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نیوہیمپشائر میں تمام امیدواروں کا بہت کچھ داؤ پر لگا تھا۔ ان کے مطابق ہرچند کہ یہ ریاست چھوٹی ہے لیکن ابتدائی طور پر یہاں سے جیت حاصل کرنے پر انھیں آگے مزید تحریک ملے گي۔

آنے والے مہینوں میں امریکہ کی تمام ریاستیں اپنی اپنی پارٹیوں کے نمائندوں کی حمایت کریں گی اور پھر جولائی میں پارٹی کے اجلاس میں حتمی امیدوار کا فیصلہ ہوگا جو نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں حصہ لیں گے۔

اسی بارے میں