ایک بڑے صحافی کی موت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سنہ 1956 میں محمد حسنین ہیکل کثیر الاشاعت سرکاری روزنامہ ’الاخبار‘ کے ایڈیٹر بنے اور سال بھر بعد ’الاہرام ‘ کی ادارتی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ جمال ناصر کی انقلابی تقاریر بھی لکھتے رہے

اگر آپ کسی بھی باخبر صحافی سے پوچھیں کہ عرب دنیا کا سب سے معروف صحافی کون ہے تو 99 فیصد امکان ہے کہ وہ محمد حسنین ہیکل کا نام لے گا۔ وہ عرب صحافتی دنیا میںالاستاذ (استاد) کے لقب سے جانے جاتے تھے۔

مصری صوبے قلیلیہ میں جنم لینے والے محمد حسنین ہیکل (ستمبر 1923 تا سترہ فروری 2016 ) نے 92 برس کی زندگی میں کیا کیا نہیں دیکھا۔

مشرقِ وسطیٰ میں نوآبادیاتی نظام کا عروج، کٹھ پتلی آمرانہ عرب حکومتیں، عرب قوم پرستی، اسلامی تحریکوں کا احیا، اسرائیل کی تشکیل، تمام عرب اسرائیل جنگیں، عرب اسپرنگ اور عرب خزاں۔

قاہرہ یونیورسٹی سے گریجویشن کے بعد سنہ 1942 میں اخبار ’ایجپشن گزٹ‘ میں بھرتی ہوتے ہی دوسری جنگِ العالمین کی رپورٹنگ کا موقع مل گیا۔ اس جنگ نے شمالی افریقہ سے جرمنی اور اٹلی کے پیر اکھاڑ دیے۔

بعد از جنگ حسنین ہیکل شاہ فاروق کے کٹھ پتلی طرزِ حکمرانی کے سبب فوج کے جواں سال افسروں کے خفیہ سیل فری آفیسرز موومنٹ سے ربط ضبط میں آئے اور اس دوران مستقبل کے مردِ آہن جمال عبدالناصر سے طویل نظریاتی رفاقت استوار ہوئی۔ جب سنہ 1952 میں جواں سال کرنلوں نے شاہ فاروق کا بوریا بستر بندھوا دیا تو حسنین ہیکل نے عرب قوم پرستی کی مصری تشریح کو مربوط شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

سنہ 1956 میں وہ کثیر الاشاعت سرکاری روزنامہ ’الاخبار‘ کے ایڈیٹر بنے اور سال بھر بعد ’الاہرام ‘ کی ادارتی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ جمال ناصر کی انقلابی تقاریر بھی لکھتے رہے۔

’الاہرام‘ میں حسنین ہیکل کا فرنٹ پیج کالم ’فرینکلی سپیکنگ‘ نہ صرف قارئین میں مقبول تھا بلکہ مصری قیادت کو بھی پالیسی سازی میں رہنمائی دیتا تھا۔ حسنین ہیکل کی الاہرام سے 17 سالہ وابستگی نے اسے عرب دنیا کا سب سے کثیرالاشاعت اخبار بنا دیا۔ وہ کچھ عرصے ناصر کابینہ میں وزیرِ اطلاعات بھی رہے۔

جون 1966 کی عرب اسرائیل جنگ میں مصر کی شکستِ فاش کے باوجود حسنین ہیکل نے ناصر سے دوستی نبھائی اور پرزور دفاعی وکالت کرتے رہے۔

سنہ 70 میں جمال ناصر کے اچانک انتقال کے بعد انور سادات نے عنانِ اقتدار سنبھالی تو حسنین ہیکل کا شمار بھی ناصر کی باقیات میں ہونے لگا۔ ناصر کے برعکس انور سادات نے مصر کا قبلہ بتدریج ماسکو سے واشنگٹن کی جانب موڑنا شروع کیا تو ہیکل اور سادات کی بھی ٹھن گئی اور انھوں نے پالیسی شفٹ کی قلمی مزاحمت شروع کر دی۔

سنہ 1974 میں ہیکل سے ’الاہرام‘ کی ایڈیٹری واپس لے کر انھیں صدارتی مشیر کے نمائشی عہدے سے مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی مگر ہیکل نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ادارت سے ہٹانا صدر کا اختیار ہے لیکن مجھے کیا کرنا ہے یہ میرا اختیار ہے۔‘

سنہ 1977 میں انور سادات کے دورۂ یروشلم پر حسنین ہیکل نے شدید تنقید کی اور اس ضمن میں ’ٹاک آف دی انیشیٹو‘ کے نام سے کتاب لکھ ڈالی۔ سادات حکومت نے ہیکل پر سفری پابندیاں لگا دیں اور ریاست کو بدنام کرنے کی سازش کے الزام میں تحقیقات شروع کر دیں۔ تین ماہ بعد معاملہ رفع دفع ہوگیا۔ مگر سادات بدستور ہیکل کا قلمی نشانہ بنے رہے۔

انور سادات نے اپنے قتل (چھ اکتوبر 1981) سے مہینہ بھر پہلے زبردست کریک ڈاؤن کیا اور سینکڑوں سیاسی کارکنوں اور صحافیوں کو حراست میں لے لیا۔ حسنین ہیکل بھی گرفتاروں میں شامل تھے۔

حسنی مبارک کے دور میں حسنین ہیکل کی کتابوں پر سے پابندی اٹھا لی گئی۔ تاہم ہیکل نے 2002 میں اپنے ایک انٹرویو میں کہیں کہہ دیا کہ مبارک خیالی جنت میں رہتا ہے اور اس کا طرزِ حکومت ناتجربہ کاری سے عبارت ہے۔ ظاہر ہے کہ ہلچل تو ہونا تھی۔ ہیکل کو سرکاری میڈیا پر آنے سے روک دیا گیا اور ان کے خلاف مضامین شائع ہونے لگے۔ ایک پرائیویٹ چینل ( ڈریم ٹی وی ) نے سرکاری دباؤ کے سبب ہیکل کا تجزیاتی پروگرام بھی بند کردیا۔

سنہ 2007 میں الجزیرہ نیٹ ورک پر ’ود ہیکل، اے لائف ایکسپیرئنس ‘ کے عنوان سے حسنین ہیکل کی ہفتہ وار لیکچر سیریز شروع ہوئی اور خاصی مقبول بھی ہوئی۔

حسنین ہیکل اخوان المسلمون کے کٹر نظریاتی مخالف تھے۔ جب فوج نے محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹا تو ہیکل نے نہ صرف کریک ڈاؤن کی حمایت کی بلکہ جنرل عبدالفتح السسی کی صدارتی مہم میں بھر پور ساتھ دیا۔

حسنین ہیکل نے عرب سیاست، تاریخ اور بین الاقوامی موضوعات پر 40 کے لگ بھگ تحقیقی و مشاہداتی تصانیف چھوڑیں۔ آخری دس برس اپنے تجربات بذریعہ گفتگو اگلی نسل تک پہنچانے میں گذارے۔ ان کے ناقدین کہتے ہیں کہ ہیکل نے عملی زندگی اسٹیبلشمنٹ اور آمریت کا ساتھ دینے میں گذاری مگر اس سے انکار نہیں کہ ایک بڑے صحافی، منجھے ہوئے تجزیہ کار اور کلاسیکی عرب قوم پرستی کی نمایاں شناخت رہے۔

اسی بارے میں