فضائی حملے میں ’الشباب کے انٹیلی جنس سربراہ ہلاک‘

Image caption کینیا کی فوج کے مطابق محمد کاراتے کا کینیا کے فوجی اڈے پر گذشتہ ماہ کیے جانے والے حملے میں اہم کردار تھا

کینیا کی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک فضائی حملے میں صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب کے انٹیلی جنس سربراہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق محمد کاراتے اور الشباب کے دس دیگر کمانڈر آٹھ فروری کو جنوبی صومالیہ میں ہونے والے حملے میں مارے گئے۔

الشباب نے صومالیہ میں فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا کینیا کی یونیورسٹی پر الشباب کے حملے میں 147 افراد ہلاک

کینیا کی فوج کے مطابق کینیا کے فوجی اڈے پر گذشتہ ماہ کیے جانے والے حملے میں محمد کاراتے نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

الشباب نے کاراتے کی ہلاکت کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔

القاعدہ سے منسلک شدت پسند تنظیم الشباب کے خلاف افریقی یونین کے 22 ہزار فوجی اقوام متحدہ کی حمایت کے ساتھ محوِ جنگ ہیں جن میں سے چار ہزار اہلکار کینیا کے ہیں۔

الشباب کا کہنا ہے کہ کینیا کے فوجی اڈے پر 15 جنوری کو کیے گئے ان کے حملے میں کم سے کم 100 فوجی مارے گئے تھے۔

کینیا کے فوجی پہلی مرتبہ سنہ 2011 میں صومالیہ میں داخل ہوئے تھے جس کا مقصد شدت پسندوں کو سرحد پار حملوں اور لوگوں کے اغوا سے روکنا تھا۔

کینیا کی فوج کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت کاراتے ایک تربیتی کیمپ میں نئے جنگجوؤں کی تربیت مکمل ہونے کی تقریب میں موجود تھے جن میں خود کش بمبار، قاتل اور بارودی مواد کے ماہر شامل تھے۔

فوج کے مطابق حملے میں الشاب کے کم سے کم 40 جنگجو مارے گئے۔

الشباب صومالیہ میں کٹر اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے۔ اسے سنہ 2011 میں دارالحکومت موغادیشو سے نکال باہر کر دیا گیا تھا تاہم اب بھی اسے صومالیہ کے جنوبی علاقوں میں کنٹرول حاصل ہے، جہاں سے وہ ملک بھر میں حملے کرتے ہیں۔

اسی بارے میں