انقرہ بم دھماکہ، ترکی کا جوابی کارروائی کا عزم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ دھماکہ پارلیمان اور ملٹری ہیڈکوارٹر کے قریبی علاقے میں ہوا ہے۔ نائب وزیر اعظم باقر بوزدک نے اس حملے کو ’دہشت گرد کارروائی‘ قرار دیا ہے

ترکی کی حکومت نے دارالحکومت انقرہ میں بم دھماکہ کرنے والوں کے خلاف ترکی اور سرحد پار سخت جوابی کارروائی کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس دھماکے میں 28 افراد ہلاک اور 61 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ملک کے صدر طیب اردوغان نے کہا: ’ترکی کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ یا کسی بھی موقعے پر اپنے دفاع کے حق کے استعمال سے گریز نہیں کرےگا۔‘

انقرہ میں بم دھماکے کے چند گھنٹے بعد صدر اردوغان کی طرف جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ملک میں اور سرحد پار اس قسم کے حملوں کا جواب دینے کے لیے ہمارا عزم مزید مضبوط ہو رہا ہے۔‘

انقرہ میں گورنر ہاؤس کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی اس وقت دھماکے سے پھٹ گئی جب ایک فوجی قافلہ اس کے قریب سے گزر رہا تھا۔

یہ دھماکہ پارلیمان اور ملٹری ہیڈکوارٹر کے قریبی علاقے میں ہوا ہے۔ نائب وزیر اعظم باقر بوزدک نے اس حملے کو ’دہشت گرد کارروائی‘ قرار دیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آوازیں پورے شہر میں سنی گئیں اور بڑے پیمانے پر دھویں کے بادل دیکھے گئے۔

دھماکے کے کئی گھنٹوں بعد صدر اردوغان نے ایک بیان میں کہا کہ ’ملک میں اور سرحد پار اس قسم کے حملوں کی وجہ سے ہمارا عزم مزید مضبوط ہو رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر طیب اردوغان نے کہاکہ ترکی کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ یا کسی بھی موقع پر اپنے خود کے دفاع کے حق کے استعمال سے گریز نہیں کرےگا

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر اردوغان نے اپنا آذربائیجان کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

اس سے قبل روئٹرز کے مطابق ترکی کی فوج نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ یہ دھماکہ ٹریفک اشارے پر انتظار کرتے ہوئے فوجی قافلے کے قریب ہوا ہے۔

اس دھماکے کے بعد ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے پہلے ہی اپنا برسلز کا دورہ منسوخ کر چکے ہیں۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دھماکے کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے انقرہ میں ہونے والے اس کار بم حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ترکی کے ساتھ نیٹو اتحادی کی حیثیت سے کھڑا رہے گا۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں ترکی کا ساتھی ہے۔

استنبول میں بی بی سی کی نامہ نگار سیلین گریت کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ترکی میں سلسلہ وار حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملک میں ایک اور بڑا حملہ نہ ہو جائے۔

اسی بارے میں