چین کے میزائل کی خبروں پر امریکہ کو تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ Google

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ جنوبی بحیرۂ چین میں واقع متنازع جزیروں پر چین کی بڑھتی ہوئی عسکری کارروائیوں پر امریکہ کو شدید تشویش ہے۔

جان کیری نے یہ بات چین کی جانب سے جنوبی بحیرۂ چین میں واقع متنازع جزیروں میں سے ایک پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نصب کیے جانے کی اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہی۔

چین نے ان اطلاعات کو ’مبالغہ آرائی‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے لیکن اس کا کہنا ہے کہ اسے عالمی قوانین کے تحت اپنی سر زمین کے تحفظ کے لیے دفاعی تنصیبات تعمیر کرنے کا حق حاصل ہے۔

’چین نے متنازع جزیرے پر میزائل نصب کر دیے‘

اس جزیرے پر چین کے علاوہ تائیوان اور ویت نام ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان دونوں ممالک نے بھی میزائلوں کی تنصیب کی تصدیق کی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر سے اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ چین نے ووڈی یا یونگزنگ آئ لینڈ پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل نصب کیے ہیں۔

ووڈی آئی لینڈ کی تازہ تصاویر ’امیج سیٹ انٹرنیشنل‘ نے حاصل کی ہیں۔

اس آئی لینڈ کی تین فروری کو لی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہاں کچھ موجود نہیں ہے لیکن 14 فروری کو لی گئی تصاویر میں اسی جگہ کئی میزائل لانچر اور امدادی گاڑیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

چین کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ اطلاعات مغربی میڈیا کی بنائی ہوئی ہیں۔

تائیوان کی وزارتِ دفاع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ میزائل مسافر اور جنگی طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

چین بحیرۂ جنوبی چین کے پورے خطے پر اپنا حق جتاتا ہے جو کہ دیگر ایشیائی ممالک ویتنام اور فلپائن کے دعووں سے متصادم ہے۔

ان ممالک کا الزام ہے کہ چین نے اس علاقے میں مصنوعی جزیرہ تیار کرنے کے لیے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور اسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ اس کا سمندر میں مصنوعی جزیرے اور اس پر تعمیرات کا مقصد شہریوں کے لیے سہولیات پیدا کرناہے لیکن دوسرے ممالک اس کی ان کوششوں کو فوجی مقاصد کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں