شمالی کوریا پر امریکہ کی نئی پابندیاں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حال ہی میں شمالی کوریا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ کا تجربہ کیا تھا

امریکی صدر براک اوباما نے جمعرات کو شمالی کوریا کے حالیہ راکٹ کے تجربے کے بعد نئی پابندیاں لگانے کے بل پر دستخط کر دیے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما نے کانگریس کی منظوری کے بعد اس بل پر دستخط کیے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کا اطلاق اُن افراد پر ہو گا جو پیانا یانگ کو اسلحہ فراہم کرتے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

فرانیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنیسٹ کا براک اوباما کے اس قانون پر دستخط کرنے سے قبل کہنا تھا کہ ’امریکی انتظامیہ کو شمالی کوریا کی حالیہ کارروائیوں اور اشتعال انگیزی پر شدید تشویش ہے۔‘

جوش ارنیسٹ کا کہنا ہے کہ ’امریکہ امید کرتا ہے کہ ان پابندیوں سے شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانے میں مدد ملے گی۔ یہی وہ مقصد ہے جو کانگریس نے بتایا ہے اور یہی مقصد ہے جو ہم بتانا چاہتے ہیں۔‘

پابندیوں میں ایسے افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تجارت یا اُس کے لیے مالی معاونت فراہم کریں، شمالی کوریا کے راکٹ پروگرام سے وابستہ ہوں، اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر براک اوباما نے کانگریس کی منظوری کے بعد اس بل پر دستخط کیے ہیں

امریکہ کی نئی پابندیوں کا اطلاق منیشات کے اسمگلروں، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں، پر تعیش اشیا درآمد کرنے والوں اور امریکہ کے سائبر سکیورٹی کو نقصان پہنچانے والوں پر بھی ہو گا۔

امریکی کانگریس جنوری میں شمالی کوریا کے جوہری تجربے کے بعد ہی سے پابندیاں سخت کرنے پر غور کر رہی تھی۔

سینیٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ باب کوکر کا کہنا ہے کہ اس بل کے تحت پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اثاثے ضبط کیے جانے، ویزا کی پابندی اور حکومتی کانٹریکٹ مسترد کیے جانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس بل میں پہلی بار شمالی کوریا کی جانب سے سائبر حملے کے خطرات کے خلاف بھی پابندیوں کا بنیادی ڈھانچہ وضع کیا گیا ہے۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے بھی شمالی کوریا کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ کے تجربے کی پر زور مذمت کرتے ہوئے شمالی کوریا پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا کہنا تھا۔

شمالی کوریا کے راکٹ کے تجربے کے بعد جنوبی کوریا، جاپان اور امریکہ کی درخواست پر سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد مختصر اعلامیے میں شمالی کوریا کے اقدام کو خطرناک قرار دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں