ترکی اور کردوں کے لیے اعزاز قصبہ اہم کیوں؟

ترک فوج کی جانب سے سرحد کی دوسری جانب شمالی شام میں کُرد فورسز پر بمباری کی وجہ سے ترکی پر تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ترک حکومت کا کہنا ہے کہ اُس کی فوج پاپولر پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جی) نامی تنظیم کے اراکین کی کارروائیوں کے خلاف برسرپیکار ہے، کیونکہ یہ کرد ملیشیا سرحد سے صرف سات کلومیٹر دور شامی باغیوں کے زیر قبضہ علاقے اعزاز کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔

لیکن عالمی برادری کو اِس بات کا یقین نہیں ہے۔

امریکہ، فرانس اور یورپی یونین نے ترکی سے بمباری روکنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ ترکی ’عالمی قوانین پر عمل کرے۔‘

اِس ہفتے کے آغاز میں ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا تھا کہ فوج کی بمباری کے باعث وائی پی جے کی اعزاز کی جانب پیش قدمی تھم گئی ہے۔ اور اُنھوں نے وعدہ کیا کہ اگر ملیشیا کی جانب سے دوبارہ اِس علاقے کی جانب پیش قدمی کی گئی تو ’سخت ترین ردعمل‘ دیا جائے گا۔

اُنھوں نے واضح کر دیا ہے کہ ’پوری دنیا کو اِس کا علم ہونا چاہیے کہ ہم اعزاز پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے۔‘

رسد کے راستے

تصویر کے کاپی رائٹ IHH

یہ چھوٹا سا علاقہ ترکی کے لیے اتنا اہم کیوں ہے؟

ترک حکومت کے حمایت یافتہ تھنک ٹینک سیٹا سے تعلق رکھنے والے محقق کین اکون کا کہنا ہے کہ ’اعزاز اور اُس سے ملحقہ علاقہ ترکی کی قومی سلامتی اور شام کی جنگ کے حوالے سے بہت اہم ہے۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ ’یہ علاقہ ترک سرحد سے لے کر شامی شہر حلب تک کے زمینی راستے کو ملاتا ہے۔ اعزاز دفاعی اہمیت کا حامل ہے، اور یہیں سے علاقے پر قابض باغیوں اور عوام کے لیے امداد جاتی ہے۔‘

لیکن روسی فضائیہ کی مدد سے شامی حکومت کی کارروائیوں کے باعث تین فروری کو حلب تک رسد کا راستہ منقطع ہو گیا تھا اور اِس کے نتیجے میں اعزاز کے دوجنوبی علاقوں پر سے باغیوں کا محاصرہ بھی ٹوٹ گیا تھا۔

اِس کے بعد سے سرکاری فوجوں کی شمال میں سرحد کی جانب پیش قدمی جاری ہے، جبکہ وائی پی جی نے صورت حال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے افرین کے علاقے سے مشرق کی جانب پیش قدمی کا آغاز کر دیا ہے۔ اُنھوں نے تل رفعت کے علاقے میں قائم ہوائی اڈے کا قبضہ بھی باغیوں سے واپس لے لیا ہے۔

صحافی جینگز جندار کا کہنا ہے کہ ’اعزاز سے حلب تک جانے والا رسد کا راستہ اب فعال نہیں ہے۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ ’ترکی امریکہ اور اُس کے عالمی اتحادیوں کو یہ علاقہ اِس طرح سے پیش کرنا چاہتا ہے جہاں سے وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کر سکے۔ مزید یہ کہ (اگر وہ اِس پر قبضہ کر لیتے ہیں) کرد سرحد کے ساتھ اپنے علاقوں میں شامل ہو سکتے ہیں، جس کو ترکی اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔‘

ترکی کے خیال میں وائی پی جی شام کی ڈیموکریٹک یونین پارٹی (پی وائی ڈی) کا مسلح گروہ ہے اور یہ ممنوعہ کردستان ورکر پارٹی (پی کے کے) کی اتحادی ہے، جو ترکی کی سرزمین پر کئی دہائیوں سے مسلح کارروائیوں میں سرگرم ہے۔

ترکی، امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے پی کے کے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔ لیکن واشنگٹن کو اندازہ ہے کہ شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف صرف وائی پی جی اور پی وائی ڈی ہی موثر قوت ہیں۔

ترکی کی سرحد کے ساتھ زیادہ تر علاقے پر کرد باغیوں کا قبضہ ہے جبکہ اعزاز سے لے کر دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ جرابلس تک تقریباً 100 کلومیٹر علاقے پر دوسروں کی حکومت قائم ہے۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ برائے نیئر ایسٹ پالیسی سے تعلق رکھنے والے فیبریس بلانش کا کہنا ہے کہ ’اعزاز کا علاقہ ترکی کے لیے علامتی اہمیت کا حامل ہے۔‘

اُنھوں نے اِس کی وضاحت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ’اگر کرد اعزاز پر قبضہ کر لیتے ہیں تو وہ اپنے دو علاقوں کو کوبانی اور افرین کے درمیان زمینی فاصلے کو ملا سکتے ہیں۔ ترک وزیراعظم کو خطرہ ہے کہ اگر کُرد اعزاز پر قابض ہو جاتے ہیں تو وہ کوبانی کی جانب سے مغرب اور افرین کی جانب سے مشرق کی طرف بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کر سکتے ہیں۔

لیکن جینگز جندار کو یقین ہے کہ وائی پی جے اعزاز پر قابض ہوئے بغیر اِن علاقوں کو ملا سکتی ہے۔

سرحدی انتظام

تصویر کے کاپی رائٹ AP

آبادیاتی لحاظ سے اعزاز کا علاقہ ترکی کے لیے بہت اہم ہے۔ یہاں عربوں اور کردوں کے ساتھ ساتھ ترک نسل کے شہری بھی آباد ہیں۔

بلانش کا کہنا ہے کہ ’اعزاز کی کلیدی اہمیت اِس لیے بھی ہے، کیونکہ ترکی کے اندر سے باغیوں کو امداد یہاں سے ہی فراہم کی جاتی ہے۔‘

’اگر کردوں نے اعزاز پر قبضہ کر لیا تو باغیوں کے پاس کوئی داخلی پوائنٹ نہیں رہے گا۔ اور روس کی یہی حکمت عملی ہے۔ کردوں کو سرحدی علاقے پر قبضے کرنے دو اور ترکی کو حلب سے کاٹ دو۔‘

منگل کو حکومتی نواز اخبار صباح کے مطابق گذشتہ چند روز کے دوران تقریباً 500 باغیوں نے ادلب سے براستہ ترکی اعزاز کا سفر کیا ہے۔

ترکی کے وزیر دفاع نے حال ہی میں یہ واضح کیا تھا کہ اُن کا شام میں فوجی بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

ترک حکام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جب تک کہ زمین پر زیادہ بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں نہ آئیں ترکی اس وقت تک یک طرفہ طور پر کارروائی نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن وہ دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی قیادت میں اتحاد کو فوجی بھیجنے کے لیے راضی کرنے کی کوشش کرے گا۔

کین اکون کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں اگر ترکی اور خلیجی ممالک نے سنجیدگی کے ساتھ اِس بات کا تہیہ کر لیا ہے تو وہ امریکہ کو موقف تبدیل کرنے لیے راضی کر سکتے ہیں۔

’یہ عمل دربدر شامی شہریوں کے لیے ایک سیف زون مہیا کر سکتا ہے اور اِس سے یورپی یونین کی حمایت بھی مل سکتی ہے۔‘

تاہم بلانش کے خیال میں واشنگٹن شام کے تنازعے میں مزید گُھسنا نہیں چاہتا اور اِس کی بجائے پراکسی وار جاری رہے گی۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کردوں کو اپنی جانب رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن واشنگٹن جانتا ہے کہ اگر انقرہ کی جانب سے بمباری جاری رہی تو کرد روس کی طرف منتقل ہوجائیں گے۔ تو امریکہ ترکی اور کردوں کے درمیان مذاکرات چاہتا ہے۔ لیکن یہ مشکل کام ہے، کیونکہ یہ انتخابات کا سال ہے اور اِس وقت امریکہ کمزور ہے۔‘

بلانش کا کہنا ہے کہ ’ترکی شاید نئی امریکی انتظامیہ کی آمد کا انتظار کرے گا جو شامی تنازعے میں مزید دخل اندازی کرے اور روس کے ساتھ اِس کا رویہ مزید جارحانہ ہو جائے گا۔

’شاید یہ لوگ ایک نئے رونالڈ ریگن کا خواب دیکھ رہے ہوں جو کہیں کہ ’امریکہ واپس آ گیا ہے۔‘

اسی بارے میں