بیلجیئم میں ٹرین کے خود بخود چل پڑنے پر ہلچل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکام نے اگلے سٹیشن پر موجود مسافروں کو وہاں سے ہٹا دیا اور ٹرین کو قابو میں کر لیا گیا

بیلجیئم میں بغیر ڈرائیور کے ایک خالی ٹرین 30 منٹ تک پٹری پر خود بخود چلتی رہی۔ ایسا اس وقت ہوا جب ٹرین کا ڈرائیور انجن میں آنے والی خرابی کی جانچ کرنے باہر نکل گیا تھا۔

یہ ٹرین مغربی برسلز کے علاقے لاڈن کے پلیٹ فارم سے چل پڑی اور کم سے کم 12 کلومیٹر تک چلنے کے بعد اس وقت روکی گئی جب ایک دوسرا ڈرائیور اس پر کُود کر سوار ہوا۔

گو کہ یہ ٹرین بہت آہستہ چل رہی تھی تاہم اس پٹری پر آنے والی تمام ٹرینوں کو معطل کر دیا گیا۔

حکام نے اگلے سٹیشن پر موجود مسافروں کو وہاں سے ہٹا دیا اور ٹرین کو قابو میں کر لیا گیا۔

بیلجیئم کے ریل کا نظام کنٹرول کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ ’ٹرین آہستہ تھی اور اگلے سٹیشن کو خالی کروا لیا گیا تھا اس لیے کسی مسافر کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔‘

ڈرائیور نے جب ٹرین کو چلتے ہوئے دیکھا تو اس نے فوراً اپنے ساتھیوں کو آگاہ کیا جنھوں نے فوراً وہاں آنے والی ٹرین کے لیے سنگنل تبدیل کر دیے۔

ادارے کے ترجمان برٹ کارلس کا کہنا ہے کہ ’ہمارا ایک ڈرائیور ٹرین کے ڈرائیور کیبن میں چڑھنے میں کامیاب رہا اور اس نے ٹرین کو روک دیا۔‘

تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہے کہ ٹرین سٹیشن سے بغیر ڈرائیور کے خود بخود کیسے چل پڑی۔ اس بارے میں حکام تحقیق کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس ٹرین کا انجن 1980 کی دہائی میں بنایا گیا تھا اور حکام کا کہنا ہے کہ اس بارے میں تفصیلی تفتیش کی جائے گی۔

اسی بارے میں