’معاہدے سے برطانیہ کو خصوصی درجہ ملے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ یونین میں جو اصلاحات وہ چاہتے تھے اس میں انہیں کامیابی ملی ہے

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے رہنماؤں کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ طے پا گیا ہے جس سے برطانیہ کو ’خصوصی درجہ‘ حاصل ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ برطانیہ یوروپی یونین میں رہنا چاہتا ہے اور یونین میں رہنے کے لیے وہ دل و جان سے مہم بھی چلائیں گے۔

برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ برسلز میں مذاکرات کے بعد طے پایا ہے جس میں فلاح و بہبود کے لیے ادائیگیوں کو سات سال کے لیے ’ہنگامی طور پر روکا‘ جانا شامل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاہدے میں یورپی یونین کے معاہدوں میں تبدیلیاں بھی شامل ہیں اور وہ اس معاہدے کو سنیچر کو اپنی کابینہ کے سامنے پیش کریں گے۔

برطانیہ کی یورپی یونین سے نکلنے کی مہم چلانے والے رہنماؤں نے اس پر اپنے رد عمل میں کہا ’اس بناوٹی معاہدے‘ میں بہت ’معمولی تبدیلیاں‘ پیش کی گئی ہیں۔

یورپی یونین کے اجلاس میں متفقہ طور پر منظور ہونے والے اس معاہدے کا اعلان یورپیئن کونسل کے صدر ڈونلڈ ڈسک نے کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ڈونلڈ ڈسک کا کہنا تھا کہ یہ نیا معاہدہ برطانیہ کے ’خصوصی درجے کو مضبوطی بخشے گا۔‘

ان کا کہنا تھا ’مجھے یقین ہے کہ برطانیہ کو یورپ کی اور یورپ کو برطانیہ کی ضرورت ہے لیکن آخری فیصلہ برطانوی عوام کے ہاتھ میں ہے۔‘

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ جو اصلاحات وہ چاہتے تھے اس میں انھیں کامیابی ملی ہے اور اس سے یورپی یونین میں برطانیہ کو جہاں قائدانہ رول حاصل ہوگا وہیں اس سے ایک لچکدار یونین پنپے گی۔

ان کا کہنا تھا ’ہم نے پاؤنڈ (برطانوی کرنسی) کو ہمیشہ کے لیے محفوظ بنا یا ہے اور اسے رکھنے کا حق بھی حاصل کر لیا ہے۔ یورپی یونین نے واضح انداز میں اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ اس کے پاس ایک سے زیادہ کرنسی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا ’اب برطانوی عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اس طرح سے تشکیل دی گئی یورپی یونین میں رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔‘

اس معاہدے کے تحت ایک اہم نقطہ چائلڈ بینیفٹ کو روکنا ہے جس کا اطلاق سنہ 2020 کے آغاز سے موجودہ دعویداروں پر ہوگا اور نئے دعویداروں پر اس کا اطلاق نئے قوانین کے مظور ہونے کے فوراً بعد ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ڈیوڈ کیمرون جیسے ہی اپنے وزرا کو کیبنیٹ میٹنگ کے دوران اس معاہدے کے حوالے سے بریفنگ دیں گے تو تمام وزرا کو ممکنہ طور پر جون میں ہونے والے ریفرنڈم میں اس کے حق میں یا مخالف مہم چلانے کی آزادی ہوگی۔

خیال رہے کہ ڈیوڈ کیمرون کی حکومت اس بات کے لیے ریفرنڈم کراوانا چاہتی ہے کہ برطانیہ یورپی یونین میں شامل رہے یا اس سے نکل جائے۔

ڈیوڈ کیمرون کے اصلاحاتی منصوبے پر کئی رہنماؤں کی جانب سے اعتراض کرنے کے بعد یہ معاہدہ یورپی یونین کے تمام 28 ممبر ممالک کے درمیان طے پا گیا ہے۔

’ووٹ لیو مہم‘ کے چیف ایگزیکٹو میتھیو ایلیئٹ کا کہنا ہے ’ڈیوڈ کیمرون اب فتح کا اعلان کریں گے لیکن یہ مکمل طور پر کھوکھلی ہے۔‘

انھوں نے ڈیوڈ کیمرون کا دعوی کہ یہ معاہدہ قانونی طور پر پابند ہے کو متنازع قرار دیتے ہوئے کہا ’اسے یورپی یونین کے سیاستدان اور غیر منتخب یورپی یونین کے ججوں کی جانب سے مسترد کیا جا سکتا ہے۔‘

اسی بارے میں