پناہ گزینوں کے بحران: یورپ اور ترکی کے درمیان اہم اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ Gtty
Image caption ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ اس بحران سے کیسے نمٹا جائے اس کے لیے ’یورپ میں اتفاق رائے‘ کا ہونا ضروری ہے

یورپی یونین کے حکام نے پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے آئندہ مارچ کے اوئل میں ترکی کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے۔

برسلز میں یورپی یونین کی ایک اجلاس میں بات چیت کے بعد یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا ہے کہ ’یورپی یونین اور ترکی کا علمی منصوبہ ہماری ترجیح ہے۔‘

یورپی یونین نے ترکی کو اس کی اپنی سر زمین پر پناہ گزینوں کے رہائش کا انتظام کرنے کے لیے تین ارب 30 کروڑ ڈالر کی رقم مہیا کرنے کا عہد کیا ہے۔

برسلز میں بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ اس بحران سے کیسے نمٹا جائے اس کے لیے ’یورپ میں اتفاق رائے‘ کا ہونا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ہمیں اس میں کامیاب ہونے کے لیے ہر وہ چيز کرنی چاہیے جو ہم کرسکتے ہیں۔ اسی لیے مارچ کے اوئل میں ہم ترکی کے ساتھ ایک خاص ملاقات کے اہتمام کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اب وہ اس مسئلے پر مزید بات چیت کے لیے یورپی یونین کے رہنماؤں کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کا سلسلہ شروع کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یورپی یونین نے ترکی کو تین ارب 30 کروڑ ڈالر کی رقم مہیا کرنے کا عہد کیا ہے

ان کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے جرمن چانسلر اینگلا میرکل نے بھی کہا کہ یورپی یونین اور ترکی کا عملی منصوبہ ’کچھ ایسا ہے کہ ہم اسی پر توجہ مرکوز کریں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں یورپ میں پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں کچھ کمی آئی ہے لیکن خبردار بھی کیا کہ موسم کے بہار میں جب سردی کم ہوجائے گی تو اس میں زبردست اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

ترکی کے وزیر اعظم احمد اوغلو جمعرات کو برسلز میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کرنے والے تھے لیکن انقرہ میں بم دھماکے کے واقعات کے بعد انھوں نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

ترکی میں اس وقت تقریبا 30 لاکھ پناہ گزین مقیم ہیں اور اس میں بیشتر شام میں جاری خانہ جنگی سے بچنے کے لیے آئے ہیں۔

گذشتہ برس یورپ میں بھی تقریبا دس لاکھ پناہ گزین داخل ہوئے جس سے دوسری عالمی جنگ کے بعد اس نوعیت کا بحران پیدا ہوا ہے۔

جمعرات کو ہی یونان کے لیزبوز جزیرے کے پاس پناہ کے متلاشی ایسے تقریبا 900 افراد کو ڈوبنے سے بچایا گیا ہے۔

اسی بارے میں