اقوام متحدہ کا دیر الزور میں فضا سے امداد پہنچانے پر غور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے محصور علاقوں میں چار لاکھ 80 ہزار سے زیادہ افراد رہائش پذیر ہیں

حکام کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نام نہاد شدت پسند تنظیم کے ہاتھوں محصور شامی شہر دیر الزور میں امداد فضا سے فراہم کرنے پر غور کر ہی ہے۔

امدادی ٹاسک فورس کے سربراہ جان ایگلینڈ کا کہنا ہے کہ ’شام کے مشرقی شہر دیر الزور تک امداد پہنچانے کے لیے ایک مضبوط منصوبہ موجود ہے۔‘

اقوام متحدہ کے امدادی ٹرکوں کے قافلے نے بدھ کو امداد کے شدید منتظر پانچ محصور قصبوں میں موجود 80 ہزار محصور افراد تک امداد پہنچائی۔

شام کے چار محصور قصبوں میں امداد پہنچ گئی

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دیر الزور کے کئی علاقوں میں اب بھی دو لاکھ افراد محصور ہیں۔

جان ایگلینڈ نے فضا سے امداد پہنچانے کے بارے میں کہا کہ ’یہ اپنی نوعیت کا پہلا امدادی آپریشن ہوگا اور یہ بہت پیچیدہ ہے۔‘

ورلڈ فوڈ پروگرام کی ترجمان بیٹینا لیوسچر کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ امدادی تنظیم شامی ہلال احمر اور مقامی گروپوں کے ساتھ مل کر امدادی سامان پیراشوٹ کی مدد سے فراہم کرے گی۔‘

بیٹینا لیوسچر نے یہ تو نہیں بتایا کہ فضا سے امداد فراہم کرنے کا کام کب سے شروع کیا جائے گا تاہم انھوں نے یہ کہا کہ ابتدائی تور پر اس کام کے لیے ایک ہوائی جہاز استعمال کیا جائے گا۔

ورلڈ فوڈ پروگرام نے اس سے قبل شام میں فضائی حدود کے استعمال کے حصول، زمین پر امداد کی تقسیم کے عمل کو ترتیب دینے اور امدادی سامان گرانے کے لیے موضوع جگہ کے تعین میں پیچیدگیوں کی وجہ سے فضا سے امداد پہنچانے کو مسترد کر دیا تھا۔

تاہم جان ایگلینڈ کا کہنا ہے کہ ’دیر الزور کے باشندوں تک امداد پہنچانے کا یہ واحد راستہ ہے۔‘

انھوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’فضا سے امداد پہنچائی جائے یا پھر نہ پہنچائی جائے، فضا سے امداد پہنچانا مشکل وقت میں مشکل وقت ہے۔‘

اس سے قبل گذشتہ روز اقوام متحدہ اور امدادی تنظیموں کا کہنا تھا کہ شام میں امداد کے شدید منتظر چار محصور قصبوں تک امدادی قافلے پہنچ گئے ہیں۔

بدھ کو یہ امدادی ٹرک دمشق کے قریب باغیوں کے زیر قبضہ قصبے معظمیہ اور مضایا کے علاوہ حکومت نواز دیہات فوا اور کیفرایا میں بھی امداد لے کر پہنچے تھے۔

اسی بارے میں