’لیبیا میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجو امریکہ کے لیے خطرہ تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ لیبیا میں امریکی فضائی حملے میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے ہلاک ہونے والے جنگجو امریکہ اور مغربی ممالک کے لیے خطرہ تھے۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے کیمپ پر طرابلس کے مغرب میں لیبیا کے شہر صبراتہ میں حملہ کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک ہوئے جن میں تیونس سے تعلق رکھنے والا ایک اہم جہادی نورالدین کوچانی بھی شامل تھا جس نےگذشتہ سال تیونس میں دو دھماکے کیے تھے جن میں سے ایک دھماکے میں 30 برطانوی باشندے ہلاک ہوئے تھے۔

دولت اسلامیہ کا یہ گروہ گذشتہ ایک سال سے لیبیا میں سرگرم تھا۔

امریکی اندازوں کے مطابق وہاں اس گروہ کے چھ ہزار کے قریب جنگجو تھے۔

پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کک کا کہنا ہے کہ ’اس کارروائی کے بارے میں لیبیا کے حکام کو علم تھا‘ تاہم انھوں نے ان حکام کے بارے میں بتانے سے انکار کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پیٹر کک کا کہنا ہے کہ ’ہم نے یہ اقدام صابر(نورالدین کوچانی) کے خلاف کیا ہے۔ اس تربیتی کیمپ پر کارروائی یہ جاننے کے بعد کی گئی کے وہاں موجود جنگجو اور نورالدین کوچانی امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کے خلاف حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔‘

اس سے قبل ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ امریکہ کی جانب سے لیبیا میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف کی جانے والی فضائی کارروائیوں میں کم سے کم 30 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ایک نامعلوم امریکی اہلکار نے نیویارک ٹائمز اخبار کو بتایا تھا کہ امریکی طیاروں نے لیبیا میں فضائی کارروائی کی ہے۔

اخبار کے مطابق اس فضائی کارروائی کا ہدف تیونس سے تعلق رکھنے والا ایک اہم جہادی گروہ تھا جس نے گذشتہ سال دو دھماکے کیے تھے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں دولتِ اسلامیہ کے اہم کمانڈ اور جنگجو عراق اور شام سے لیبیا پہنچے ہیں۔

لیبیا کے شہر صبراتہ کے گورنر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ طرابلس کے جنوب میں واقع ایک عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 41 ہے جس میں زیادہ تر تیونس کے شہری ہیں۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ان حملوں میں برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال کیا گیا تاہم کوئی برطانوی اثاثہ استعمال نہیں کیا گیا۔

امریکی وزیرِ دفاع ایش کارٹر نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ لیبیا میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔

اسی بارے میں