مصر میں مصنف کو’فحش نگاری‘ پردو برس قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AP

مصر میں عدالت نے ایک مصنف کو ان کے افسانے سے فحش طرز تحریر ایک سرکاری ادبی جریدے میں شائع ہونے کے الزام میں دو برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ایک شہری کی جانب سے دائر مقدمے میں استدعا کی گئی تھی کہ اقتباس کے نتیجے میں انھیں تکلیف ہوئی اور ان کے دل کی دھڑکن بے تریب ہو گئی۔

مصر میں انسانی حقوق کے نئے خدشات

مصنف احمد احمد ناجی کو پہلے مقدمے میں بری کر دیا گیا تاہم بعد میں استغاثہ نے فیصلے کے خلاف دوبارہ اپیل کی۔

عدالت میں مصر کے معروف ادیبوں نے احمد ناجی کا دفاع کیا۔ انھوں نے احمد کی سزا کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک میں آزادِ رائے پر حملہ قرار دیا۔ مصر کے ایک نمایاں کام نویس ابراہیم عیسیٰ نے روزنامہ المقال میں اپنے کالم میں اتوار کو عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزا پر سخت تنقید کرتے ہوئے صدر السیسی پر الزام عائد کیا کہ ان کا طرز حکومت اس رہنما کے اسلامی اقتدار سے مختلف نہیں جیسے انھوں نے خود معزول کیا۔

’آپ کی ریاست اور اس کی ایجنسیاں آپ کے پیشرو کی طرح لگتی ہیں جس میں مفکروں، سوچ اور تخلیق سے نفرت کی جاتی ہے اور صرف منافق، چاپلوسی کرنے والوں، حمایت میں اور خوشامدی نظمیں لکھنے والوں کو پسند کیا جاتا ہے۔‘

احمد ناجی کو سزا کے خلاف اپیل کرنے کا حق دیا گیا ہے۔

احمد ناجی کے ناول’زندگی گزارنے کی رہنما‘ سے چند اقتباس سرکاری ہفتہ وار جریدے’ اخبار الادب ‘ میں شائع ہوئے تھے۔

اسی بارے میں