’شام میں جنگ بندی پر عارضی معاہدہ ہو چکا ہے‘

شام تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عارضی جنگ بندی کی ڈیڈ لائن تو گزر گئی لیکن جنگ بندی کہیں نظر نہیں آئی

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ شام میں لڑائی کے خاتمے کی شرائط پر ایک عبوری معاہدہ ہو چکا ہے۔

انھوں نے یہ بیان اردن میں روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف کے ساتھ ملاقات کے بعد دیا۔

انھوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں امریکی صدر براک اوباما اور روسی صدر ولادمیر پوتن اس معاہدے کی توثیق کر دیں گے۔

عالمی اور مشرقِ وسطی کی علاقائی طاقتوں کے درمیان اس ماہ کے آغاز میں میونخ میں لڑائی روکنے پر مذاکرات ہوئے تھے۔ لیکن ابھی تک جنگ بندی نہیں ہو پائی ہے اور جمعہ کی ڈیڈلائن بھی گزر چکی ہے۔

شام کے صدر بشار الاسد نے ایک ہسپانوی اخبار ال پیئس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عارضی جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں لیکن انھیں یہ گارنٹی چاہیےکہ ’دہشت گرد‘ اسے اپنی صفیں مظبوط کرنے کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔

یاد رہے شام کے بحران پر جرمنی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد عالمی طاقتیں شام میں ’جنگی اقدامات اور کارروائیاں روکنے‘ کے لیےمتفق ہو گئی تھی۔

تاہم یہ جنگ بندی جہادی گروہوں دولتِ اسلامیہ اور النصرہ فرنٹ کے لیے نہیں تھی۔

اسی بارے میں