ریفرینڈم میں بولیویا کے صدر کی شکست کے آثار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اگر مسٹر مورالز کو ریفرینڈرم میں حمایت مل جاتی ہے تو وہ سنہ 2025 تک صدر رہیں گے

بولیویا میں ہونے والے ریفرینڈم میں ایگزٹ پول کے نتائج سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ صدر ایوو مورالز ہار گئے ہیں۔

انھوں نے چوتھی بار صدر کے طور پر انتخابی مقابلے میں آنے کی اجازت کے لیے ملک سے رائے طلب کی تھی۔

ایک ایگزٹ پول میں کہا گيا ہے کہ 52.3 فی صد لوگوں نے قانون میں ترمیم کے خلاف ووٹ دیا ہے جبکہ ایک دوسرے ایگزٹ پول میں کہا گيا ہے کہ ’نہیں‘ کے حق میں 51 فی صد ووٹ پڑے ہیں۔

اگر انھیں حمایت مل جاتی ہے تو وہ سنہ 2025 تک صدر رہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں اصلاحات کے لیے مزید وقت درکار ہیں۔

حزب اختلاف کے حامیوں نے ایگزٹ پول کے نتائج پر بولیویا کے اہم شہر لا پاز کے بعض حصوں میں جشن منانا شروع کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ مسٹر مورالز نے جنوری سنہ 2006 میں عہدہ سنبھالا تھا۔ وہ ایمارا کے ہیں اور پہلے کوکا کی پتیاں بنانے کا کاروبار کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Gobierno de Bolivia
Image caption مورالز ملک میں پہلے مقامی نسل سے تعلق رکھنے والے صدر ہیں

ان کا حالیہ عہد سنہ 2020 میں ختم ہو رہا ہے۔ وہ ابھی بھی مقبول رہنما ہیں کیونکہ وہ ملک کے پہلے سربراہ ہیں جو مقامی نسل کے ہیں اور ان کے عہد میں ملک کی معیشت مسلسل بہتر ہوئي ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود ملک کے لوگ نہیں چاہتے کہ وہ لگاتار 19 سال سے زیادہ ملک کی سربراہی کریں۔

نائب صدر الوارو گارشیا لائنیرا نے عوام سے سرکاری نتائج کے اعلان کا انتظار کرنے کے لیے کہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ رائے عامہ اور بطور خاص ایگزٹ پولز غلط ثابت ہوتے ہیں۔ اور ان میں بیرون ملک ڈالے جانے والے ووٹ کو شمار نہیں کیا جاتا ہے اور نہ ہی وہ دور دراز کے علاقوں میں جاتے ہیں جہاں ہمارے سماجی تحریک کے زیادہ حامیان ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وہ پہلے کوکا کی پتیوں کا کاروبار کرتے تھے

انھوں نے مزید کہا: ’اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ رائے عامہ میں دکھائے جانے والے رجحانات سے نتائج بالکل علیحدہ ہوں۔‘

ووٹوں کی گنتی معمول سے کہیں سست رہی ہے۔ ریفرینڈم کرانے والوں کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں سے بیلٹ کے آنے میں تاخیر کے سبب گنتی سست روی کا شکار ہے۔ ان علاقوں میں صدر کے زیادہ حامیان ہیں۔

مشرقی صوبے سانتا کروز میں کئی پولنگ سٹیشن کے تاخیر سے کھلنے پر مشتعل ووٹروں نے بیلٹ پیپر کو آگ لگا دی۔

اسی بارے میں