ملاوی کو کھانا کھلانے والی کشتی

حال ہی میں بی بی سی نامہ نگار بیتھ مک لویئڈ نے ملاوی کا دورہ کیا۔ یہاں وہ جھیل ملاوی کے ساتھ سکاٹ لینڈ کے بنے جہاز میں اپنے سفر کی داستان بیان کرتی ہیں۔یہ جہاز اس وقت تعمیر کیا تھا جب ملاوی سکاٹ لینڈ کی نوآبادیات میں شامل تھا۔

اس سال جنوب افریقی ممالک میں قحط کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو بھو ک کا سامنا ہے۔ قحط کی وجہ سے وہاں کوئی فصل اگنے کے قابل نہیں رہی۔ ان تمام ممالک میں سب سے برا حال ملاوی کا ہے جو دنیا کا سب سے غریب ترین ملک بھی ہے۔

میں نے اپنے سفر کا آغاز بندروں کی بہتات کی وجہ سے نام پانے والے قصبے ’منکی بے‘ سے کیا جہاں ٹکٹ ہال کے اندر بہت سے ببون بندر ایک فوج کی شکل میں آرہے تھے اور جن کی نظریں میرے ساتھ آنے والے مسافروں کی ٹماٹر سے بھری ٹوکریوں پر تھیں۔

یہ افریقہ کی تیسری بڑی جھیل کے ساتھ میرے سفر انتہائی کا انتہائی جنوبی سرا تھا۔ اور ہماری منزل یہاں سے 300 میل دور شمال میں ملاوی اور تنزانیہ کی سرحد تھی اور مجھے امید تھی کہ میں یہ راستہ ڈھائی دن میں طے کرلوں گی۔

مجھے پیشگی خبردار کردیاگیا تھا کہ ایم وی الالہ نامی جہاز کبھی وقت کی پابندی نہیں کرتا۔ یہ جہاز ملاوی جھیل کی شان تھا جو پچلھی کئی دہائیوں سے ہر ہفتے مسافروں اور سامان کو ادھر سے ادھر لانے اور لے جانے میں مصورف تھا۔

شنہ 1949 میں سکاٹ لینڈ کے دریائے کلائڈ پر تعمیر کیے جانے والے اس جہاز کو پہلے کئی حصوں میں موزمبیق پہنچایا گیا اور پھر وہاں سے ریل کے ذریعے ملاوی تک لایا گیا۔

جہاز میں سوار ہونے کے ساتھ ہی آپ کو بھاپ سے چلنے والے بحری جہاز کے ایک پرانے اور یادگار دور میں داخل ہوجاتے ہیں۔ جہاز کے عرشے کے درمیان مہاگنی کے ستونوں سے بنا ایک سیلون ہے اور مسافروں اور جہاز کے سینئر عملے کے درجوں کے لحاظ سے درجنوں کیبن بھی ہیں جن کے دروازوں پر ابھی تک پرانے انداز کے طرز تحریر میں عملے کے نام اور عہدے لکھے ہوئے ہیں۔

گذشتہ 65 سالوں سے جھیل میں سفر کے دوران یہ جہاز زنگ آلود، پرانا اور خستہ حال ہوچکا ہے۔

جہاز کی نچلی منزل میں تھرڈ کلاس کے مسافروں کے لیے دھات کی بینچیں موجود تھیں جن پر وہ آرام کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

جہاز میں رکھی ایک ٹوکری سے کچھ مرغیاں باہر نکل کر سیٹوں کے درمیان گھوم رہی تھیں۔ جبکہ ایک بکری کو ہینڈ ڈرل کے ساتھ باندھ دیا گیا تھا۔

جہاز کے اوپری عرشے پر ملاوی کا جھنڈا لہرارہا تھا جس کے شوخ رنگ کئی سالوں سے چمنی سے نکلنے والے دھویں کو برداشت کرتے کرتے ماند پڑگئے ہیں۔

کافی عرصہ قبل جہاز کے بھاپ والے انجن کو ڈیزل انجن سے تبدیل کردیا گیا ہے ، جس نے ارد گرد کی تمام چیزوں کو بالکل سیاہ ہوچکا ہے۔

اس ہی وجہ سے جہاز کا عملہ جو بندرگاہ سے تو صاف ستھری سفید یونیفارم میں سوار ہوا تھا، جہاز کے چلتے ہی کپتان سمیت عام لباس میں آگیا۔

جہاز کے کپتان نے مجھ سے بات کرتے ہوئےکہا کہ ' الالہ ایک بوڑھی عورت کی طرح ہت اور ہم سب اس کا بہت خیال رکھتے ہیں کیونکہ یہ جھیل کے کنارے رہنے والے لوگوں کے لیے بہت اہم ہے۔'

شمال کی جانب سفر کے دوران جہاز دس مقامات پر رکا۔ ان میں سے کئی مقامات بالکل دور افتادہ گاؤں اورجزیرے تھے جن کا بیرونی دنیا سے تعلق کا واحد ذریعہ صرف الالہ ہی تھا۔ کچھ مقامات پر جیٹی موجود تھی جہاں جہاز لنگر انداز ہوجاتا ورنہ کنارے کے نزدیک پہنچنے پر دو کشتیاں پانی میں اتار دی جاتیں اور جب یہ کشتیاں مسافروں اور سامان سے بھر جاتیں تو کنارے کا رخ کرتیں اور قریب لے جاکر ان کو اتاردیتیں جہاں سے وہ خشکی تک جانے کا باقی راستہ پیدل چل کر طے کرتے۔ ایک خاندان، جن کو دیکھنے سے لگتا تھا کہ وہ گھرمنتقلی کے ارادے سے آئے ہیں، اپنے پورے سازوسان کے ساتھ جس میں پلنگ، الماری، اور تین سوت کیس شامل تھے کشتی میں سوار ہوئے۔

راستے میں ایک نسبتا بڑے قصبے کی جیٹی ہمارے پہنچنے سے ایک دن قبل پانی میں گرگئی تھی۔ جس کی وجہ سے ملاحوں کو الالہ پر موجود مکئی کی بڑی تعداد کو کشتیوں کے ذریعے آبادی تک پہنچانے کے لیے ساری رات کام کرنا پڑا۔

ملاوی میں قحط کے وجہ سے مکئی کو زیمبیا سے درآمد کیا گیا تھا۔صحت کے عالمی پروگرام نے خبردارکیا ہے ملاوی میں کم بارشوں کے باعث 17 فیصد آبادی کو غذائی قلت اور بھوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بہت سے ملاوی اپنے خاندان کا پیٹ بھرنے کے لیے نوکری کے ساتھ ساتھ اپنے گھر پر مکئی بھی اگاتے ہیں۔ انھی میں ایک 50 سالہ خوش مزاج گلبرٹ بھی ہیں جنہوں نے جہاز کی کینٹین میں کھانا سرو کرتے ہوئے مجھے بہترین انگریزی میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ہرماہ 37 ڈالر کماتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 'اس سال میں نے منکی بے میں جو فصل اگائی تھی وہ سوکھ گئی ہے۔اور اب لوگ بھوکےہیں۔'

'اب زیادہ تر لوگ اپنی غذائی ضروریات کے لیے مچھلی پر انحضار کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے جھیل میں مچھلی بھی کم ہوگئی ہے۔'

گلبرٹ کے گاؤں میں ذیادہ تر لوگوں کا پیشہ مکئی کی کاشت ہی تھا۔ان کاگاؤں جھیل کے کنارے آباد ہٹوں پر مشتمل تھاجو چاروں طرف سے پہاڑوں سےگھرا ہوا تھا اور جہاں سے باہر نکلنے کا واحد راستہ صرف پانی ہی تھا۔

ایک مقام پر جب الالہ کنارے کے قریب پہنچا تو مسافروں اور سامان کو اترتے دیکھنے کے لیے گاؤں کے تمام لوگ جمع ہوگئے۔ لڑکے چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں مچھلیوں کو پیچنے کے آموجود ہوئے اور بوریوں سے گرنےوالے مکئی کے دانوں کو لپک کر جمع کرنے لگے۔

ہمارے وہاں سے نکلنے تک اندھیرا ہوچکا تھا اور اگلا سٹاپ میری منزل تھی۔ اس لیے میں دو گھنٹے قبل ہی لائف بوٹ کے قریب آگئی۔ اپنا سامان سر پر رکھ کر کنارے تک جاتے ہوئے میں نے پیچھے مڑ کر تاریک سمندر میں جگمگاتے الالہ کو دیکھا۔

اور ایسا لگا جیسے جھیل ملاوی کی عظیم عمر رسیدہ عورت نے زور دار ہارن دیا اور مچھیروں کی کشتیوں کی ٹمٹماتی لالٹینوں کی روشنی میں واپسی کا سفر شروع کردیا۔

اسی بارے میں