کولون میں سالِ نو پر حملے، ملزمان کی شناخت میں مشکل

Image caption پولیس کو 500 سے زائد شکایات درج کرائی گئی تھی، جن میں سے 40 فیصد جنسی حملوں کے حوالے سے تھیں

جرمنی کے شہر کولون کے پولیس چیف کا کہنا ہے کہ سالِ نو کی آمد کے موقعے پر خواتین پر جنسی حملے کرنے والے ملزمان شاید کبھی قانون کی گرفت میں نہ آسکیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پولیس کے سربراہ یورگین میتھیس کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج اِس قابل نہیں ہے کے اِن سے جنسی حملوں میں ملوث ملزمان کی شناخت ہوسکے۔

جنسی حملے کے شبہے میں الجزائری پناہ گزین گرفتار

تفتیش کاروں نے 75 مشتبہ افراد کو شناخت کرلیا ہے۔ جن میں سے زیادہ تر کا تعلق شمالی افریقہ سے ہے اور یہ جرمنی میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئے ہیں یا پناہ حاصل کرنے کی کوششوں میں ہیں۔

پولیس کو 500 سے زائد شکایات درج کرائی گئی تھی، جن میں سے 40 فیصد جنسی حملوں کے حوالے سے تھیں۔

میتھیس کا کہنا ہے کہ ’سی سی ٹی وی فوٹیج اِس قابل نہیں کہ اِن سے حملہ آوروں کی شناخت کی جاسکے۔ ہم اِس میں صرف چند چوروں کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہم حملہ آوروں کی شناخت کے لیے عینی شاہدین اور متاثرین پر بھروسہ کررہے ہیں۔‘

اِن حملوں کے الزام میں گرفتار دو مراکشی اور ایک تیونس کے شہری پر چوری کا مقدمہ چلایا جائے گا، یہ پہلی بار ہوگا کہ نیو ایئر نائٹ پر ہونے والے حملوں میں ملوث کسی بھی ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سرکاری رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کولون پولیس نے عوام کو مطلع کرنے اور کمک منگوانے میں ’سنگین غلطیاں‘ کی تھی

نیو ایئر نائٹ کو لوٹ مار کرنے والے 13 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے، اِن میں سے صرف ایک 26 سالہ الجیریائی نژاد پناہ گزین ہے، جس کو مبینہ طور پر جنسی حملوں میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

میتھیس سے قبل پولیس چیف کے عہدے پر رہنے والے والف گینگ البرس کو حملوں اور چوریوں کے واقعات سے بہتر انداز میں نہ نمٹنے پر عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا۔

سرکاری رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کولون پولیس نے عوام کو مطلع کرنے اور کمک منگوانے میں ’سنگین غلطیاں‘ کی تھی۔

31 دسمبر کی شام کو کولون کے مرکزی ریلوے سٹیشن کے قریب تقریباً ایک ہزار شمالی افریقی اور عربی نژاد باشندے اکھٹا تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھوٹے گروہ تشکیل دیے گئے، جو خواتین کے اطراف پھیل گئے، پھر اُن کو دھمکایا اور اُن پر حملے کیے۔

اِن واقعات کے بعد سے چانسلر انیگلا میرکل کی پناہ کے حوالے سے پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

سنہ 2015 میں تقریباً 11 لاکھ پناہ گزین جرمنی پہنچے ہیں۔

اسی بارے میں