ایشیائی خاندانوں کا شادی سے قبل جاسوسی کا سہارا

تصویر کے کاپی رائٹ iStock

ایشیائی نژاد برطانوی خاندانوں کی بڑی تعداد ممکنہ طور پر رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے افراد کے بارے میں جاننے کے لیے جاسوسوں کی خدمات حاصل کر رہی ہے۔ لیکن کیا ’ہنی ٹریپنگ‘ یعنی کے خواہشمند شخص کو پھسانا، حد سے تجاوز تو نہیں ہے؟

شراب خانے میں تین ٹیمیں موجود ہیں، چند لڑکیاں سیلفی لے رہیں تھی، ایک شخص اپنی اہلیہ اور دوست کے ہمراہ موجود ہے جبکہ ایک شخص تنہا بیٹھ کر شراب نوشی میں مصروف ہے۔

یہ تمام نجی جاسوس ہیں اور نظر رکھنے کے لیے مڈلینڈس کے علاقے میں موجود ہیں۔

اِن کا ہدف ایک 20 سالہ لڑکا ہے۔ اِس کی نگرانی کرانے والوں کا تعلق ایشیائی نژاد برطانوی خاندان سے ہے، جنھوں نے شادی کے خواہشمند شخص کے بارے میں جاننے کے لیے شادی سے قبل نجی جاسوس کی خدمات حاصل کی ہیں۔

اِس علاقے میں ایشیائی شادیوں کی تقریبات کا خرچہ 50 ہزار برطانوی پاؤنڈ تک آتا ہے۔ والدین، دولہا اور دلہن اُن لوگوں سے رشتہ جوڑتے ہوئے جھجکتے ہیں جن کو وہ جانتے نہ ہوں، چاہے وہ آپس میں بہترین جوڑ ہی کیوں نہ ہوں۔

اِس کا مطلب ہے کہ یہاں زمینی کام انجام دینے کے لیے نجی جاسوسی کمپنیوں کے کاروبار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ شادی کرانے والی چند ایشیائی کمپنیاں پیشگی معلومات بھی مہیا کرتی ہیں۔ جس میں پسِ منظر اور اثاثہ جات کی تصدیق اُسی وقت کرلی جاتی ہے، جب آپ اپنے خوابوں کے شہزادے یا شہزادی سے ملاقات کے لیے معاہدے پر دستخط کرتے ہیں۔

لیلیٰ 30 سال کی ہیں اور یہ اُن کا حقیقی نام نہیں ہے۔ لیلیٰ کے انکل نے اُن کا تعارف ایک ممکنہ شوہر سے کرایا ہے، جن سے لیلیٰ نے ابھی ملاقات کرنی ہے۔ وہ اُن سے ملاقات سے قبل اثاثوں کی تصدیق کرانا چاہتی ہیں۔

’اگر میں کسی کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتی ہوں، تو میں اس کے متعلق سو فیصد جاننا چاہوں گی۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ کاروباری شخصیت ہیں اور اُن کے نام پر کئی گھر ہیں، تو میرے لیے وہ مالی اعتبار سے کافی مستحکم ہیں، لیکن میرے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ میں بیٹھ کر اِس بارے میں سوچوں۔ میں اپنی باقی زندگی کے لیے صرف اِس شخص کے الفاظ پر بھروسہ کرتی ہوں تو میں وہ شخص نہیں بننا چاہتی، جس کو پاگل بنایا جائے۔‘

شادی سے قبل جاسوس کی خدمات حاصل کرنے کے کام کا آغاز بھارت سے ہوا ہے لیکن کئی سالوں سے یہ سروس برطانیہ میں بھی موجود ہے۔ کچھ کمپنیاں اِس کام میں بہت مہارت رکھتی ہیں، جن کو وہ شادی سے قبل کی سروس یا طے شدہ شادی کے بارے میں جانچ کا کہتی ہیں۔

اِس میں وہ شخص کہاں کام کرتا ہے، اُن کے پاس برطانیہ میں رہنے کے حقوق ہیں یا نہیں، اُس کے ساتھ ساتھ اثاثہ جات کی جانچ اور کیا وہ کسی جرم میں تو ملوث نہیں رہے ہیں؟ ساری چیزوں کی معلومات شامل ہیں۔ لیکن جاسوسی اور ’ہنی ٹریپنگ‘ شادی سے قبل کی جانے والی تحقیقات کا سب سے بڑا حصہ بن چکا ہے۔

لائن نامی تحقیقاتی کمپنی کے زیادہ تر ملازمین سابق پولیس اہلکار ہیں۔ یہ بہت زیادہ خفیہ کام کرتے ہیں اس لیے وہ جعلی ناموں کا استعمال کرتے ہیں۔ ’راج سنگھ‘ نے پولیس کی نوکری چھوڑنے کے بعد اِس کمپنی کا آغاز کیا تھا۔

’اِس حوالے سے یہاں کئی خوفناک کہانیاں ہیں کہ لوگوں نے جھوٹ بولا اور بدنیتی پر مبنی مقاصد کے لیے رشتہ اُستوار کیا۔‘

راج سنگھ کے مطابق اُن کے 70 فیصد صارفین ایشیائی ہوتے ہیں اور سنہ 2013 سے شادی سے قبل تحقیقات کی خدمات حاصل کرنے کے کام میں دوگناہ اضافہ ہوگیا ہے۔ اُنھوں نے اور اُن کے دیگر ساتھیوں نے سینکڑوں افراد کے پسِ منظر کی جانچ اور نگرانی کی ہے۔

ایک صارف سُکھی یہ ان کا فرضی نام ہے اپنے مستقبل کے بہنوئی کی نگرانی کرانا چاہتی ہیں۔ اُن کی بہن نے شادی کے لیے رضامندی ظاہر کردی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ iStock

’جس چیز کے حوالے سے میں سب سے زیادہ پریشان ہوں، وہ اُن کی شناخت ہے۔ اگرچہ اُن کی عمر صحیح ہے، لیکن اُن میں ذہنی پختگی نہیں ہے۔‘

’اگر وہ اب بھی ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ تو میں یہ نہیں چاہتی کہ وہ معاشرے کو دکھانے اور اپنی والدہ کی بہو لانے کے لیے میری بہن سے شادی کریں، جیسا کے کئی لڑکے کرتے ہیں۔ ہمارا خاندان روایتی ہے اور ہم مذہبی بھی ہیں۔‘

یہ طے ہوا کہ مڈلینڈس میں ہفتے کے اختتام پر نگرانی کی جائے گی۔

نگرانی کی پہلی رات کو ایک ٹیم اُن کے گھر کے باہر کئی گھنٹوں کے لیے تعینات کردی گئی۔ نگرانی کا مقصد گھر نہیں بلکہ مطلوبہ شخص پر نظر رکھنا ہے۔ اگر وہ گھر سے باہر نکلتے ہیں تو جاسوسی کرنے والے اُن کا پیچھا کریں گے اور ثبوت حاصل کرنے کے لیے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنائیں گے۔

اِس کیس میں ’ہنی ٹریپنگ‘ شامل ہے۔ سنگھ کو علم ہے کہ یہ متنازع ہے لیکن اُن کا کہنا ہے کہ یہ ضروری ہے۔ ہنی ٹریپنگ کے کئی درجے ہیں۔ دور رہنے سے لے کر بے تکلفی تک، یہ سب صارف کی طلب پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ یہ اُن کی دیانت داری کی جانچ ہے، جس میں اُن کے سامنے رہ کر دیکھنا ہے کہ وہ چاہتے کیا ہیں۔

’صارف کا کہنا تھا کہ وہ بے تکلفی والا ہنی ٹریپ نہیں چاہتے ہیں اور وہ صرف یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ مخصوص ماحول میں کیسے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔‘

رات کے وقت سڑک پر کافی اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ یہاں بڑے بڑے گھر ہیں اور سڑک پر گاڑیاں رواں ہیں۔ کوئی یہ محسوس نہیں کرے گا کہ گاڑیاں کہاں کھڑی ہیں۔

نگرانی کے دوسرے روز وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ گھر سے باہر نکلے۔ تین جاسوس ٹیموں نے مخصوص فاصلہ رکھتے ہوئے گاڑیوں میں اُن کا پیچھا کیا۔

اِس دوران وہ ایک پُر ہجوم بار پہنچ چکے تھے۔ جاسوس تین ٹیموں میں تقسیم ہوگئے۔ پہلے گروہ میں لڑکیاں تھی، دوسرے میں ایک شخص اور آخر میں دو مرد جاسوس تھے۔

خاتون نے جلد ہی اُن سے رابطہ قائم کیا اور بات چیت شروع کردی۔ اُنھوں نے وہاں سے شراب خریدی۔ دیگر جاسوس مخصوص فاصلے سے اُن پر نظر رکھ رہے تھے اور میسج ایپ کے ذریعے سے ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔

سنگھ نے ہمیں بتایا کہ ’ہم نے شراب اور سگریٹ نوشی کرتے ہوئے تصاویر لے لی ہیں۔ جو کہ ہمارے مقصد کا حصہ تھا۔‘ لیکن بعد میں وہ ’یاز‘، خاتون تفتیش کاروں میں سے ایک، کے قریب آنے لگے اور 30 منٹوں کے دوران دونوں میں نمبروں کا تبادلہ ہوگیا۔

یہ ہنی ٹریپ ہے۔ یاز آنے والے کئی روز یا ہفتوں تک اُن سے باتیں کرسکتی ہیں۔

نگرانی کی جگہ سے بہت دور کنٹری ہوٹل کی ویران کار پارکنگ میں ’آپریشن کے حوالے دوبارہ گفتگو کی گئی۔‘ یاز نے ٹیم کو آگاہ کیا کہ اُنھوں نے اِس کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ وہ جلد شادی کرنے والے ہیں۔ ’اُنھوں نے کہا وہ اِس کے بعد ایک دوسرے بار جائیں گے۔ میرے خیال میں اِس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دلچسپی لے رہے تھے۔‘

کچھ دنوں میں اُنھوں نے خاتون جاسوس اہلکار سے رابطہ کیا۔ دونوں کے درمیان کچھ دل پھینک پیغامات کے بعد، اُنھوں نے یاز کو اپنی کافی بے تکلفی والی تصاویر بھیجیں۔ جس کے کچھ دیر بعد دونوں کے درمیان رابطہ ختم ہوگیا۔

سُکھی کو ثبوتوں کی فائل، جس میں پیغامات اور تمام تصاویر تھیں، دے دی گئی۔

’بہن کو یہ سمجھانا مشکل ہے کہ میں نے کیا کیا اور کیوں کیا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا اِس کا یہ نتیجہ نکلے گا، کیونکہ باتیں صرف باتوں کی حد تک ہوتی ہیں لیکن جب بات آپ سے پیار کرنے والوں کی آئے تو آپ یہ قسمت پر نہیں ڈال سکتے۔‘

سُکھی کی بہن نے شادی سے انکار کردیا۔ اُن کا خاندان تباہ ہوگیا۔

سرنجیت کنڈولا آسک بھابی.کو.یوکے (Askbhabi.co.uk) کی منیجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ یہ سکھوں میں رشتہ کرانے کی خدمات دینے والا ادارہ ہے۔ سرنجیت کہتی ہیں کہ اُن کے کچھ پیکجز میں پسِ منظر کی جانچ معیار کے طور پر آتی ہے اور کئی لوگ یہ جاننا بھی چاہتے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ لوگ بہت بے اعتبار ہوچکے ہیں۔ ’اُنھیں ماضی میں اپنے ساتھی کے ساتھ مسائل تھے۔ وہ ان مسائل کو براہ راست ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اُس شخص سے ملنا چاہتے ہیں، جس سے ملنے سے قبل وہ اُس کے متعلق ہر چیز جانتے ہوں۔‘

یہاں بہت سارے لوگ ایسے ہوں گے جو ہنی ٹریپنگ کے عمل کو مشکوک سمجھیں گے۔ لیکن لگتا ہے کہ اِس طرح کی جانچ کی طلب جاری رہے گی۔

اسی بارے میں