آسٹریلیا کےدفاعی بجٹ میں اضافے پر چین برہم

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption منصوبہ بندی کے تحت دفاعی اخراجات سنہ 2021 تک آسٹریلیا کی مجموعی پیداوار کی 2 فیصد پر مشتمل ہوں گے

آسٹریلیا نے اپنے دفاعی اخراجات میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان خطے میں فوجی توسیع کے حوالے سے موجود خدشات کی عکاسی کرتا ہے جبکہ چین کی جانب سے اس پر برہمی کا اظہار کیا گیا ہے۔

سنہ 2016 کے دفاعی وائٹ پیپر کے مطابق فوجی اخراجات میں اگلے دس برس کے دوران تقریباً ساڑھے 21 ارب ڈالر تک کا اضافہ ہوجائے گا۔

سب سے بڑی سرمایہ کاری آب دوزوں پر کی جائے گی جبکہ اضافی بحری جہازوں، لڑاکا طیاروں اور عملے پر بھی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔

منصوبہ بندی کے تحت دفاعی اخراجات سنہ 2021 تک آسٹریلیا کی مجموعی پیداوار کی 2 فیصد پر مشتمل ہوں گے۔

رپورٹ میں سنہ 2035 کے لیے حکومتی دفاعی ترجیحات کا خاکہ بھی پیش کیا گیا ہے۔

چین نے آسٹریلیا کی جانب سے دفاعی بجٹ میں اضافے پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور اس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ وہ خطے میں اسلحہ کی دوڑ نہیں دیکھنا چاہتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

آسٹریلوی وزیر اعظم میکولم ٹرن بُل کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کو درپیش خطرات محض غیر ملکی تنازعات کی حد تک محدود نہیں تھے بلکہ اس میں دہشت گردی، سائبر جنگ اور ماحولیاتی تبدیلی بھی شامل ہے۔

ٹرن بُل کہتے ہیں ’یہ زمین اور فضا میں خود کو طاقتور بنانے اور سمندروں اور اُن کے نیچے مزید مستحکم ہونے کا منصوبہ ہے۔ یہ سائبر نظام میں مزید مضبوط ہونے، ٹیکنالوجی کو جدید بنانے کا منصوبہ ہے اور صورت حال کے متعلق اپنی ترقی یافتہ انٹیلی جنس صلاحیتوں سے زیادہ باخبر رہنے کا منصوبہ ہے۔‘

اُن کے مطابق 25 فیصد کے قریب اضافی اخراجات ’دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک کے بحریہ کی تعمیرِ نو کے لیے کیے گئے سب سے وسیع ترین اخراجات ہوں گے۔‘

’خطے کی 12 اعلیٰ ترین‘ آبدوزوں کو بنانے کے لیے مختص کی گئی 50 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم آسٹریلیا کی اب تک کی سب سے بڑی دفاعی سودے بازی میں شمار ہوتی ہے۔

آبدوزیں جو امریکی فوجوں کے ساتھ اعلیٰ سطح کی انٹرآپریبیلیٹی ( کمپیوٹر سسٹمز کے ایسے اجزا جو مختلف ماحول میں کام کرنے کے اہل ہیں) رکھتی ہیں، سنہ 2030 کے ابتدا سے کام کرنا شروع کر دیں گی۔

فضا میں مار کرنے والے تین بحری جنگی جہاز ہوبارٹ سنہ 2020 میں دستے میں شامل کر لیے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سب سے بڑی سرمایہ کاری آب دوزوں پر کی جائے گی جبکہ اضافی بحری جہازوں، لڑاکا طیاروں اور عملے پر بھی سرمایہ کاری کی جارہی ہے

وائٹ پیپر نے آسٹریلوی دفاعی دستوں کی 62 ہزار 400 کی کل تعداد میں تقریباً 2500 اہلکاروں کے اضافے کے متعلق بھی بتایا ہے۔

بغیر پائلٹ ڈرونز کی خریداری کے علاوہ 72 مشترکہ جنگی طیاروں اور 12 گرولیر الیکٹرانک جنگی طیاروں کی خریداری کا پہلے سے اعلان کردہ منصوبے بھی وائٹ پیپر کے خاکے میں شامل تھے۔

چین کا سوال

وائٹ پیپر میں تین دفاعی حکمتِ عملی کے متعلق مفادات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ آسٹریلیا کی شمالی سرحدوں اور مواصلاتی لائنز کی حفاظت، اپنے خطے میں سلامتی کو یقینی بنانا اور خاص طور پر انڈو پیسیفک خطے میں’یکساں قوانین پر مبنی عالمی نظام کو برقرار رکھنا‘ یہ تین مفادات اِن میں شامل ہیں۔

اس سے آسٹریلیا کے امریکہ سے کیے گئے عہد کی دوبارہ توثیق ہوتی ہے لیکن چین کو یہ کہنے سے کہ ’وہ اپنی دفاعی پالیسیوں میں مزید شفافیت پیدا کرے، متضاد جذبات کا اظہار ہوتا ہے۔

آسٹریلوی نیشنل یونیورسٹی کے سٹریٹیجک اینڈ ڈیفنس سٹڈیز سینٹر کے ایک پُرانے ساتھی ڈاکٹر جان بلیکس لینڈ کا کہنا ہے کہ چین کے متعلق استعمال کی گئی زُبان سنہ 2013 کے دفاعی وائٹ پیپر کی زُبان سے زیادہ سخت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فضا میں مار کرنے والے تین بحری جنگی جہاز ہوبارٹ سنہ 2020 میں دستے میں شامل کردیے جائیں گے

چین کی معاشی قوت سے مُراد یہ ہے کہ اُس کے اُن قوانین کو نظر انداز کرنے کے زیادہ امکانات ہیں جو اُس کے مفادات کے مطابق نہیں، جو علاقائی تنازعات اور سائبر دائرہ کار دونوں میں صاف ظاہر تھا۔

ڈاکٹر بلیکس لینڈ کا کہنا ہے کہ حکومتی دفاعی منصوبہ ’ایک بے موقع انشورنس پالیسی نہیں‘ اور اگر اسے مناسب طریقے سے نافذ کیا گیا تو اس کی صلاحیت پر مضبوط اثرات مرتب ہوں گے۔‘

اُن کے مطابق ’دفاع پر عالمی اوسط خرچ مجموعی ملکی پیداوار کے 2.1 فی صد اور 2.3 فی صد کے درمیان ہے۔ جس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کیا اقدامات کررہے ہیں۔ اس لیے آسٹریلیا کا دفاع پر 2 فیصد خرچ کرنے کا منصوبہ ناموزوں نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں