’جمی سیول کے معاملے بی بی سی ناکام رہی‘

بی بی سی کے ڈی جے جمی سیوِل کی جانب سے جنسی زیادتی کیے جانے کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ بی بی سی سٹاف کو جمی کے خلاف شکایات کا علم تھا لیکن سینیئر مینیجمنٹ کو مطلع نہیں کیاگیا۔

یہ بات ڈیم جینٹ سمتھ ریویو میں کہی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ سینیئر مینیجمنٹ کو سٹاف نے خوف کے ماحول کی وجہ سے نہیں بتایا اور یہ ماحول اب بھی موجود ہے۔

ریویو نے 72 متاثرین کی نشاندہی کی ہے جو جمی سیول کی جنسی زیادتی کا نشانہ بنیں جن میں آٹھ وہ ہیں جو ریپ کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق مانچسٹر میں بی بی سی مینیجمنٹ کو سابق براڈکاسٹر سٹورٹ ہال کی غیر موزوں جنسی حرکات کا علم تھا۔

بی بی سی ٹرسٹ کی چیئرمین رونا فیئر ہیڈ کا کہنا ہے کہ بی بی سی نے متاثرین کو ’مایوس‘ کیا۔

انھوں نے جمی سیول اور سٹورٹ ہال کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والوں کے حوالے سے کہا ’مینیجمنٹ نے اس حرکات کو ان دیکھا کر دیا جبکہ اس کر سامنے لانا چاہتے تھا۔ مینیجمنٹ نے اس سٹاف کی حفاظت نہیں کی جنھوں نے ان پر اعتبار کیا۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیول اور ہال ’عادی جنسی شکاری‘ تھے اور بی بی سی کو ان حرکات کو روکنے کے پانچ مواقعے ملے۔

دوسری جانب بی بی سی ڈی جے ٹونی بلیک برن کا کہنا ہے کہ ان کو متنازع شواہد ہونے کے باوجود نوکری سے برطرف کردیاگیا تھا۔

ریڈیو 2 کے ڈی جے ٹونی نے کہا کہ ان کو جنسی تشدد کے الزامات سے بری کر دیا گیا تھا اور ان سے 15 سالہ بچی کو نشانہ بنانے کے معاملے میں انٹرویو نہیں کیا گیا۔

تاہم بی بی سی کا کہنا ہے کہ 15 سالہ لڑکی کے حوالے سے ان سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹونی ہال کچھ دیر میں اس رپورٹ پر ایک بیان جاری کریں گے۔

بی بی سی نے 2012 میں سابق ہائی کورٹ جج ڈیم جینٹ کو آزادانہ تفتیش کی ذمہ واری سونپی تھی۔ ان کو جمی سیول کے عرصے کے دوران بی بی سی کے کلچر اور ضابطہ عمل کا بغور جائزہ لینے کو کہا گیا۔

جمی سیول اور سٹورٹ ہال کے بارے میں ڈیم جینٹ نے کہا ’ان دونوں مردوں نے بی بی سی کے سلیبرٹی ہونے کے باعث اپنی مقبولیت اور پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کمزور خواتین کو نشانہ بنایا۔ ان کے گھناؤنے برتاؤ کی ہر صورت مذمت کرنی چاہیے۔‘

اہم معلومات

  • سیول کے بی بی سی میں جنسی تشدد میں آٹھ افراد شامل ہیں جو ریپ ہوئیں اور ایک کو ریپ کرنے کی کوشش کی گئی
  • دیگر پر جنسی تشدد کیا گیا
  • زیادہ تر جنسی تشدد 1970 کی دہائی میں ہوا
  • سیول نے سب سے زیادہ جنسی تشدد اس وقت کیا جب وہ ٹاپ آف دی پاپس پر کام کیا کرتے تھے
  • جنسی زیادتی کا شکار ہونے والوں میں سب سے کم عمر آٹھ سال کی تھی
  • آٹھ غیر رسمی شکایات کی گئیں
  • دو سینیئر مینیجرز پر تنقید کی گئی کہ ان کو یا تو معلوم تھا یا ممکنہ طور پر سٹورٹ ہال کی جانب سے بی بی سی دفتر میں جنسی زیادتی کا علم تھا

ڈیم جینٹ انکوائری نے 700 افراد سے شواہد لیے۔ ان افراد میں دو بی بی سی کے مینیجرز بھی تھے جنھوں نے جمی سیول سے ان الزامات کے بارے میں پوچھا کہ وہ ٹاپ آف دی پاپس سے نوجوان لڑکیوں کو اپنے مکان پر لےگئے تھے۔