عالمی معشیت انتہائی کمزور ہو چکی ہے: آئی ایم ایف

تصویر کے کاپی رائٹ Xinhua
Image caption چینی معیشت جو دنیا میں دوسری سب سے بڑی معیشت ہے، 25 سال کے دوران سب سے سُست ترین شرح سے بڑھ رہی ہے

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ عالمی معیشت مزید کمزور ہوگئی ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال ’ناموافق جھٹکوں کے لیے شدید غیر محفوظ ہے۔‘

اُن کے مطابق معیشت میں کمزوری ’بڑھتے ہوئے مالی اضطراب اور اثاثوں کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہے۔‘

2016 اقتصادی ترقی کے لیے ’مایوس کن‘

آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ آئندہ ہفتے شنگھائی میں جی 20 وزرائے خزانہ اور مرکزی بینک کے گورنروں کے اجلاس سے قبل آئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین کی معیشت میں سُست روی عالمی اقتصادی ترقی کے خدشات میں اضافہ کررہی ہے۔

چینی معیشت جو دنیا میں دوسری سب سے بڑی معیشت ہے، 25 سال کے دوران سب سے سُست ترین شرح سے بڑھ رہی ہے۔

واشنگٹن میں قائم آئی ایم ایف کے مطابق ’ترقی یافتہ معیشتوں میں ترقی کی رفتار پہلے ہی قائم کردہ حد سے نیچے ہے۔ جیسے کچھ ممالک میں طلب میں کمی اور بڑے پیمانے پر پیداوار میں نمایاں کمزوری نے بحالی کے عمل کو روک رکھا ہے۔‘

ترقی کی رفتار میں کمی کی وجہ سے چین کی پیداوار میں مزید استحکام کے حوالے سے عالمی سطح پر اثرات مرتب ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ جس کے ساتھ ساتھ دیگر بڑی اُبھرتی ہوئی مارکیٹوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ جس میں اشیا کی گرتی ہوئی قیمتیں بھی شامل ہیں۔‘

آئی ایم ایف نے عالمی ترقی کے حوالے سے بھی مستقبل کے امکانات کا ذکر کیا ہے کہ ’مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی ترقی غیر مستحکم ہوسکتی ہے، جیسے تیل کی قیمتیں کا گرنا اور جغرافیائی اور سیاسی تنازعات پیدا ہوسکتے ہیں۔

ایجنسی نے معیشت کے حوالے سے سب سے کمزور ممالک کی حفاظت کے لیے نیا طریقہ کار وضع کرنے کے لیے جی 20 گروپ کا اجلاس بُلایا ہے۔

رواں سال کے آغاز میں آئی ایم ایف نے عالمی اقتصادی ترقی میں کمی کی پیش گوئی کی تھی۔ اب آئی ایم ایف رواں سال اقتصادی سرگرمیوں میں 3.4 فی صد اور سنہ 2017 میں 3.6 فی صد اضافے کی توقع رکھتا ہے۔

اسی بارے میں