الشباب کے ہاتھوں کینیا کے 180 فوجی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اگر 180 ہلاکتوں کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ الشباب کا سب سے بڑا حملہ شمار ہوگا

صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ شدت پسند تنظیم الشباب نے کینیا کے کم از کم 180 فوجیوں کو ان کے اڈے پر حملہ کر کے ہلاک کیا۔

کینیا کی جانب سے تاحال صومالیہ میں الدے اڈے پر حملے میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تعداد نہیں بتائی گئی۔

الشباب کا کہنا ہے کہ انھوں نے 100 کے قریب فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔

اگر 180 ہلاکتوں کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ الشباب کے وجود میں آنے سے لے کر اب تک کا سب سے بڑا حملہ شمار ہوگا۔

صدر محمود نے 180 ہلاکتوں کے بارے میں ایک صومالی ٹی وی کو انٹرویو میں بتایا اور کینیا کے فوجیوں کی یاد میں منعقدہ تقریب میں شرکت کا دفاع کیا۔

سوشل میڈیا پر کچھ صومالی باشندوں نے انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں اپنے ملک کے شہریوں سے زیادہ کینیا کی فکر ہے۔

صدر محمود کا کہنا تھا کہ الدے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کو خراج تحیسن پیش کرنا اہم تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افریقی یونین کے 22000 فوجیوں میں 4000 کینیا کے فوجی شامل ہیں

انھوں نے صومالی کیبل ٹی وی کو بتایا: ’جب 180 یا 200 کے قریب فوجی جو ہمیں بھیجے گئے وہ صومالیہ میں ایک دن میں ہلاک ہوجاتے ہیں، یہ عام بات نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’فوجیوں کو صومالیہ ملک میں امن کے حصول کے لیے بھیجا گیا ہے، اور ان کے خاندانوں کو یقین ہے کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہوئے۔‘

دوسری جانب کینیا کا کہنا تھا کہ حملے میں القاعدہ کی جانب سےسنہ 1998 میں نیروبی میں امریکی سفارت خانے پر حملے میں استعمال ہونے والے بموں سے تین گنا زیادہ طاقت ور تھے۔ امریکی سفارت خانے پر ہونے والے حملے میں 224 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ افریقی یونین کے 22000 فوجیوں میں 4000 کینیا کے فوجی شامل ہیں جو القاعدہ سے الحاق شدہ تنظیم الشباب سے صومالیہ میں برسرپیکار ہیں۔

اسی بارے میں