ہم جنس پرستوں سے زیادتیاں، پارلمیان کی معافی

Image caption ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں سے نیو ساؤتھ ویلز پارلیمنٹ نے باقاعدہ طور پر معافی مانگ لی ہے

سنہ 1978 میں آسٹریلیا کے شہر سڈنی کی پہلی مادی گرا پریڈ کے دوران مار پیٹ کا شکار ہونے والے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں سے نیو ساؤتھ ویلز پارلیمنٹ نے باقاعدہ طور پر معافی مانگ لی ہے۔

سڈنی میں معافی کے بعد پارلیمنٹ میں مسرت کا اظہار کیا گیا۔

سنہ 1969 میں اس مارچ کا اہتمام امریکہ کے شہر نیویارک کی سٹون وال تحریک سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر کیا گیا تھا جس میں ہم جنس پرستی کے خلاف متعصبانہ قوانین کا خاتمہ کرنے اور تعصب کو ختم کرنے کے مطالبات کیے گئے تھے۔

لیکن اس پریڈ کا اختتام غیر متوقع طور پر پولیس کے تشدد، مارچ کے شرکا کی گرفتاریوں اور انھیں عوام کے سامنے شرمندہ کر کے ہوا تھا۔

آسٹریلوی نشریاتی ادارے فائر فیکس نے بھی سنہ 1978 کے مارچ میں حصہ لینے والے 53 افراد کے نام، پتے، اور ان کے پیشے شائع کرنے پر معافی مانگ لی ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کیا نیو ساؤتھ ویلز کی پولیس بھی اپنے رویے پر معافی مانگے گی یا نہیں۔

ایوان کے اندر اور پبلک گیلری میں بیٹھے لوگوں نے معافی کا خیر مقدم کھڑے ہو کر کیا جہاں سنہ ’1978 کے مارچ میں حصہ لینے والے‘ چند افراد بھی پارلیمان کی کارروائی دیکھنے کے لیے موجود تھے۔

سڈنی کے علاقے کُوجی سے منتخب رکن بروس نوٹلی سمتھ نے کہا کہ ’میں امید کرتا ہوں کہ معافی قبول کرنے کے لیے ابھی بہت دیر نہیں ہوئی ہوگی بلکہ آپ نے جو تکلیفیں برداشت کی ہیں ہمیں ان کا بھی احساس ہے۔ آپ اس معاشرے میں بنیادی تبدیلیاں لے کے آئے ہیں۔ اور مجھ جیسے ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کے لیے ایسی تبدیلی لائے ہیں جن کے بعد ہم اپنی سچائی کو بغیر خوف وخطر کُھل کر تسلیم کرسکتے ہیں۔‘

پارلیمنٹ کے ایک آزاد رکن ایلکس گرین وچ نے سنہ 1978 کے مارچ میں حصہ لینے والوں کا این ایس ڈبلیو کو آسٹریلیا کی تاریخ میں ’سب سے زیادہ ہم جنس پرست اراکین والی پارلیمنٹ‘ بنانے میں مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

انھوں نے کہا ’ہم سب یہاں آپ کی بہادری کی وجہ سے ہیں، آپ کی ہمت، آپ کی قربانیاں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مادی گرا نامی پریڈ سڈنی میں اب ہر برس منائی جاتی ہے

مساوی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے کارکنوں کی شمولیت کے بعد سڈنی کے پانچ سو مظاہرین کا مجمع 1500 تک جا پہنچا تھا جو ہم جنس پرستی کی حمایت میں نعرے لگا رہے تھے۔

مارچ کے دوران ہونے والی گرفتاریوں میں پیٹر مرفی بھی شامل تھے جن کی عمر اس وقت 25 سال تھی، دوران حراست انھیں ’الگ سے نشانہ بنا کر بری طرح مارا پیٹا گیا تھا۔‘

انھوں نے آسٹریلیا براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو بتایا کہ ’اس وقت صرف دو پولیس اہلکار موجود تھے اور ان میں سے ایک نے مجھے مارا تھا۔‘

گذشتہ چار عشروں میں سڈنی کا مادی گرا مارچ ایک سالانہ پُرجوش تقریب کی شکل اختیار کرچکا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس مارچ سے این ایس ڈبلیو کی معیشیت میں چار کروڑ ڈالر کی آمدنی متوقع ہے۔

اسی بارے میں