جاپان کی آبادی میں 10 لاکھ کی کمی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی بوڑھی ہوتی آبادی کے باعث معیشت رک گئی ہے

جاپان میں کی جانے والی تازہ مردم شماری سے معلوم ہوا ہے کہ گذشتہ پانچ برس میں آبادی میں دس لاکھ کی کمی واقع ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق 1920 کے بعد پہلی بار آبادی میں اتنی زیادہ کمی ہوئی ہے۔

گذشتہ اکتوبر کیے جانے والی مردم شماری کے مطابق پچھلی مردم شماری کے مقابلے میں ملک کی آبادی بارہ کروڑ اکہتر لاکھ ہے یعنی آبادی میں 0.7 فیصد کمی ہوئی ہے۔

ماہرین کئی سالوں سے آبادی میں کمی کا عندیہ دے رہے تھے اور ان کے مطابق اس کی بڑی وجہ پیدائشوں میں کمی اور بیرونی ممالک سے لوگ کی آمد نہ ہونا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کی بوڑھی ہوتی آبادی کے باعث معیشت رک گئی ہے۔

مردم شماری کے مطابق 2010 میں کی جانے والی مردم شماری کے مقابلے میں جاپان میں نو لاکھ 47 ہزار افراد کم ہیں۔

سرکاری میڈیا کے بقول ٹوکیو شہر کے علاوہ صرف آٹھ علاقوں میں آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔

حکام کے مطابق باقی 39 علاقوں میں آبادی میں کمی ہوئی ہے۔ اور سب سے زیادہ کمی فوکوشیما میں ہوئی ہے جہاں ایک لاکھ 15 ہزار نفوس کم ہوئے۔

یاد رہے کہ فوکوشیما میں 2011 میں زلزلے اور سونامی کے باعث بہت نقصان ہوا تھا۔

پچھلی صدی میں جاپان کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے ماسوائے پچھلی دہائی میں۔ 2010 میں کی گئی مردم شماری میں کہا گیا تھا کہ آبادی میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ آئندہ دہائیوں میں کام کرنے والے افراد کی آبادی میں واضح کمی اور ساتھ ہی عمر رسیدہ افراد کی آبادی میں اضافہ ہو گا۔

جاپان کی حکومت کے اندازوں کے مطابق 2060 تک ملک کی 40 فیصد آبادی 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کی ہو گی اور عام آبادی میں ایک تہائی کمی ہو گی۔

جاپانی وزیر اعظم نے آبادی کو 1.4 بچہ فی عورت سے بڑھا کر 1.8 بچے تک لے جانے کا عزم کیا ہے۔ اور اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے انھوں نے بچے کی دیکھ بھال میں بہتری اور ٹیکس میں مراعات دینے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں