’آنے والا وقت شام کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption براک اوباما کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے ضروری ہے کہ شام میں جاری بحران کا خاتمہ ہو

پانچ برس سے خانہ جنگی کا شکار ملک شام میں دو ہفتے کی جنگ بندی کے آغاز سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ آنے والے ہفتے ملک کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

جنگ بندی کا یہ معاہدہ 27 فروری کی شب 12 بجے سے نافذ العمل ہوگا تاہم اس کا اطلاق دولت اسلامیہ، القاعدہ اور اس منسلک النصرہ فرنٹ کے خلاف کارروائیوں پر نہیں ہوگا۔

صدر اوباما نے روس کو خبردار کیا ہے کہ شام میں جنگی اقدامات اور کارروائیاں روکنے پر متفق ہونے تمام فریقوں کو حملے روکنے ہوں گے۔

براک اوباما کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ بندی کامیاب رہتی ہے تو یہ شام سے افراتفری اور تشدد کے خاتمے کی جانب پہلا ٹھوس قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

امریکی صدر نے ساتھ ہی ساتھ شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کا عزم بھی دوہرایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کوئی خلافت نہیں بلکہ مجرموں کا ایک گروپ ہے جسے شکست دینے کے لیے ضروری ہے کہ شام میں جاری بحران کا خاتمہ ہو۔

براک اوباما نے کہا کہ شام میں جنگ بندی کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ فریقین بشمول شامی حکومت، روس اور اس کے اتحادی بھی اپنے وعدوں کی پاسداری کریں۔

انھوں نے کہا کہ ’آنے والے دن بہت اہم ہیں اور دنیا کی نظریں ان پر لگی ہوں گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنگ بندی کا آغاز سنیچر 27 فروری کی شب 12 بجے سے ہونا ہے

امریکی صدر کے اس بیان سے قبل روس کے وزیرِ خارجہ سرگے لاوروو نے بھی امید ظاہر کی تھی کہ امریکہ بھی جنگ بندی کا احترام کرے گا۔

براک اوباما کا یہ بھی کہنا تھا کہ باغیوں میں قبائلی دشمنی اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف جاری مہم کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں فوری طور پر تشدد کا خاتمہ ممکن نہیں۔

انھوں نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ شام کی خانہ جنگی کے کسی بھی حل کے حصے کے طور پر صدر بشار الاسد کو اقتدار چھوڑنا ہوگا۔

’یہ واضح ہے کہ شامی عوام کے خلاف برسوں کی بربریت کے بعد بہت سے لوگ اس وقت تک لڑائی ختم نہیں کریں گے جب تک بشار الاسد اقتدار سے علیحدہ نہیں ہو جاتے۔‘

تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ یہ امر امریکہ اور روس کے درمیان نکتۂ معترضہ ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے خلاف مہم کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس شدت پسند تنظیم کے خلاف لڑائی میں کامیابیاں ملی ہیں لیکن انھیں دیرپا شکست دینے کے لیے شام میں جاری تنازع کا خاتمہ ضروری ہے۔

’دولتِ اسلامیہ نے شام اور عراق میں گذشتہ موسمِ گرما سے کوئی کامیاب پیش قدمی نہیں کی ہے۔ یہ گروہ اپنے زیرِ قبضہ علاقے میں سے 40 فیصد علاقہ کھو چکا ہے اور شام کا رخ کرنے والے غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد میں بھی کمی آ رہی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنگ بندی کا اطلاق دولت اسلامیہ، القاعدہ اور اس منسلک النصرہ فرنٹ کے خلاف کارروائیوں پر نہیں ہوگا

براک اوباما نے کہا کہ ’زیادہ لوگ اب اس بات کا احساس کر رہے ہیں کہ دولتِ اسلامیہ کوئی خلافت نہیں بلکہ مجرموں کا گروہ ہے۔ وہ (شدت پسند) دل نہیں جیت رہے بلکہ دباؤ میں ہیں۔‘

شام میں حزبِ اختلاف کی طاقتوں کے مرکزی گروپ نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کے منصوبے کے بارے میں حکومت کے عزم کو جانچنے کے لیے دو ہفتے کے لیے لڑائی بند کرنے پر تیار ہے۔

تاہم باغیوں کی مذاکراتی کمیٹی نے ان خدشات کا اظہار کیا ہے کہ شام اور روس ان باغیوں کو نشانہ بناتے رہیں گے جو النصرہ فرنٹ کے اتحادی ہیں۔

ترک سرحد کے ساتھ شام کے سرحدی علاقے کا کنٹرول سنبھالنے والی کردوں کی مسلح ملیشیا ’وائی پی جی‘ نے بھی جمعرات کو کہا ہے کہ وہ جنگ بندی کا احترام کرے گی لیکن اگر انھیں نشانہ بنایا گیا تو وہ جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

خیال رہے کہ شام میں مارچ 2011 سے شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ شامی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بےگھر ہونے والوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے جن میں سے 40 لاکھ کو دوسرے ممالک میں پناہ لینا پڑی ہے۔

اسی بارے میں