شام میں جنگ بندی سے قبل’روسی فضائی حملوں میں تیزی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعے کی درمیابی شب ہونے والے فضائی حملے ماضی کے مقابلے میں زیادہ شدید تھے

شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق روسی فضائیہ کے طیاروں نے ملک میں مجوزہ جنگ بندی سے چند گھنٹے قبل حکومت مخالف مسلح گروہوں کے ٹھکانوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔

روس کا کہنا ہے کہ وہ شام کے مختلف علاقوں میں ’دہشت گردوں‘ کے ٹھکانوں پر بمباری کرتا رہے گا۔

دریں اثنا شام میں حکومت کے مخالف مرکزی گروہ نے کہا ہے کہ تقریباً سو متحارب گروپوں نے جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری پر اتفاق کیا ہے۔

مذاکرات کے لیے بنائے گئے اعلیٰ مذاکراتی گروپ نے کہا ہے کہ فری سیریئن آرمی اور اس کے مختلف دھڑوں اور مسلح گروہوں نے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب سے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

اس عبوری جنگ بندی کے معاہدے میں سرکاری فوج اور باغی گروپ شامل ہیں لیکن اس کا اطلاق دولت اسلامیہ اور القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ جیسی شدت پسند تنظیموں پر نہیں ہوگا۔

النصرہ فرنٹ نے جمعے کو اپنے حامیوں سے شامی صدر بشار الاسد اور ان کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کو کہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

حکومت مخالف گروہوں کے ارادے ظاہر کرتے ہوئے مذاکرات کرنے والے گروپ یا ایچ این سی نے کہا کہ شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں کو معاہدے کے الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے بہانے مخالفین کو نشانہ بنانا بند کرنا چاہیے۔

شام میں صورتحال کی نگرانی کرنے والے گروپ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعے کی درمیابی شب ہونے والے فضائی حملے ماضی کے مقابلے میں زیادہ شدید تھے اور اس دوران دمشق کے مشرق میں باغیوں کے گڑھ غوطا، حمص کے شمالی علاقوں اور حلب کے صوبے میں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

سیریئن آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ان حملوں میں ’معمول کے مقابلے میں زیادہ شدت تھی۔ یہ ایسا تھا جیسے وہ (روس اور شامی حکومت) جنگ بندی سے قبل ان علاقوں میں باغیوں کو کمزور کرنا چاہتے ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روس ایسے شدت پسندگروہوں کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں اقوام متحدہ نے جائز ہدف قرار دے رکھا ہے: پوتن

تنظیم کا کہنا ہے کہ جمعے کو دمشق کے نواحی علاقے دوما میں بھی شدید بمباری کی گئی جس سے چار بچوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ دوما لشکرِ اسلام کے باغیوں کے زیرِ اثر علاقہ ہے۔

تاہم روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ روس کی فضائیہ النصرہ فرنٹ اور دولت اسلامیہ سمیت ایسے شدت پسندگروہوں کو نشانہ بنا رہی ہے جنہیں اقوام متحدہ نے جائز ہدف قرار دے رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان گروپوں کے خلاف ’فیصلہ کن لڑائی بلا شک و شبہ جاری رہے گی۔‘

عالمی طاقتوں نے بارہ فروری کو ایک ہفتے کے اندر شام میں عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن مقررہ وقت پر جنگ بندی نہ ہونے کی وجہ سے اس کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جانے لگا تھا۔

تاہم پھر روس اور امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ 27 فروری کو رات بارہ بجے جنگ بندی کا آغاز ہوگا۔

اسی بارے میں