شام میں عبوری جنگ بندی کےدوران اکا دکا حملے

تصویر کے کاپی رائٹ AP

شام میں لڑائی شروع ہونےکے پانچ برس بعد پہلی بار ایک روز کا وقفہ آیا ہے۔ صدر بشار الاسد کی حامی افواج اور سو کے قریب باغی گروہوں کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کےمعاہدے پر عمومی طور پر عمل ہو رہا ہے ۔ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے اکا دکا واقعات کے علاوہ کوئی بڑا واقع پیش نہیں آیا۔

عبوری جنگ بندی کی ابتدا گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب دس بجے ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق محاذ پر خاموشی ہے۔ البتہ شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دمشق کے رہائشی علاقوں پر کئی شیل فائر کیےگئے۔ باغیوں اور حکومتی افواج کے مابین چھوٹے پیمانے پر جھڑپوں کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سٹیفن ڈی میستورا نے کہا ہے کہ جنگ میں سکون آ گيا ہے لیکن خلاف ورزی کے ایک واقعے کی تحقیق کی جارہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس عبوری جنگ بندی کے معاہدے میں سرکاری فوج اور سو کے قریب باغی گروپ شامل ہیں لیکن اس کا اطلاق دولت اسلامیہ اور القاعدہ سے منسلک النصرۃ فرنٹ جیسی شدت پسند تنظیموں پر نہیں ہوگا۔

النصرۃ نے جمعے کو اپنے حامیوں اور اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ شامی صدر بشار الاسد کی افواج اور ان کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائیں۔

شام کی سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے وقت کے آغاز سے چند گھنٹے بعد ہما کے قریب حکومت کے قبضے والے قصبے سلامیہ میں ایک کار بم دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

بہر حال بی بی سی کے نمائندے مارک لووین نے جوکہ شام کے ساتھ ترکی کی سرحد پر موجود ہیں کہا ہے کہ عارضی جنگ بندی سنیچر کی صبح قائم نظر آ رہی ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری نے کہا ہے کہ شمالی شہر حلب میں ایک دو گولی باری کی آواز کے علاوہ دوسری جگہ خاموشی رہی ہے۔

شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی سٹافن ڈی میستورا نے اعلان کیا ہے کہ اگر جنگی کارروائیاں رکی رہتی ہیں تو شام میں قیامِ امن کے لیے مذاکرات کا عمل سات مارچ کو دوبارہ شروع ہوگا۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی شام میں متحارب فریقین کی جانب سے جنگی اقدامات روکنے کے معاہدے کے حق میں امریکہ اور روس کی جانب سے تیار کی گئی ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لڑائی کی بندش کی وجہ سے متاثرہ اور محصور علاقوں میں پھنسے افراد تک امداد بھی بحفاظت پہنچائی جا سکے گی

امریکہ کے صدر براک اوباما نے شام اور اس کے اہم ترین حلیف روس پر زور دیا ہے کہ وہ بھی معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔

انھوں نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’آنے والے دن بہت اہم ہیں اور دنیا کی نظریں ان پر لگی ہوں گی۔‘

تاہم شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق روسی فضائیہ کے طیاروں نے ملک میں مجوزہ جنگ بندی سے قبل حکومت مخالف مسلح گروہوں کے ٹھکانوں پر حملے تیز کر دیے تھے۔

روس کا کہنا ہے کہ وہ شام کے مختلف علاقوں میں ’دہشت گردوں‘ کے ٹھکانوں پر بمباری کرتا رہے گا۔

روس کے صدر ولادی میر پوتن نے کہا ہے کہ روس کی فضائیہ النصرہ فرنٹ اور دولت اسلامیہ سمیت ایسے شدت پسندگروہوں کو نشانہ بنا رہی ہے جنہیں اقوام متحدہ نے جائز ہدف قرار دے رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان گروپوں کے خلاف ’فیصلہ کن لڑائی بلا شک و شبہ جاری رہے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عبوری جنگ بندی کو ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے

خیال رہے کہ عالمی طاقتوں نے 12 فروری کو ایک ہفتے کے اندر شام میں عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن مقررہ وقت پر جنگ بندی نہ ہونے کی وجہ سے اس کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جانے لگا تھا۔

تاہم پھرروس اور امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ 26 اور 27 فروری کی درمیانی شب جنگ بندی کا آغاز ہوگا۔

خیال رہے کہ شام میں مارچ 2011 سے شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ شامی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ بےگھر ہونے والوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے جن میں سے 40 لاکھ کو دوسرے ممالک میں پناہ لینا پڑی ہے۔

اسی بارے میں