مخالفت کے باوجود امریکہ ایف 16 پاکستان کو دےگا

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اوباما انتظامیہ نے بھارت اور بعض امریکی سینیٹروں کے اعتراضات کے باجود پاکستان کو آٹھ ایف16 طیاروں کی فروخت کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیلینا ڈبلیو وائٹ نے جمعے کو کہا کہ ’پاکستان کو دہشت گردی سے نمٹنے اور شورش کے مقابلے کے لیے جاری آپریشن میں مدد فراہم کرنے کے لیے ہم مجوزہ آٹھ ایف 16 طیاروں کی فروخت کی حمایت کرتے ہیں۔اب تک حالیہ آپریشن میں ہم نے دیکھا ہے کہ پاکستان کے ایف 16 طیارے نے کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔‘

امریکہ میں پاکستان کے سفارتخانے نے اوباما انتظامیہ کے اس مجوزہ فروخت کے ارداے پر قائم رہنے کا خیر مقدم کیا ہے۔

امریکی حکومت نے 12 فروری کو اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان کو آٹھ اضافی ایف 16 طیاروں کے ساتھ ساتھ راڈار اور دیگر آلات فروخت کرے گا۔ اس معاہدے کا تخمینہ 699 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔

بھارت اور بعض امریکی ماہرین قوانین نے پاکستان کو طیاروں کی فروخت پر اعتراض کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف 16 طیارے اس قسم کے آپریشن کے لیے کارآمد نہیں ہیں اور انھیں بھارت کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔

بھارت کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے اس خیال سے اتفاق نہیں رکھتا ہے کہ ان طیاروں کی فروخت سے انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں مدد ملے گی۔

کم از کم دو امریکی سینیٹرز نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکی انتظامیہ کی منظوری کے باوجود بھی اس فروخت کو روکنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جمعرات کو امریکی سینیٹر رینڈ پال اور ان کے ساتھی باب کورکر جو کہ سینیٹ میں خارجہ امور کے چیئرمین ہیں نے اس فروخت کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے پاکستان کو تمام ہتھیاروں کی فروخت کو روکنے کے لیے قرارداد پیش کی ہے۔

اگر یہ قرار داد منظور ہو جاتی ہے تو ایف 16 طیاورں کی فروخت بھی روک دی جائے گی۔ اس قرارداد کو 12 مارچ سے قبل سینیٹ میں منظور کرنا ہوگا۔

اسی بارے میں