جنگ بندی کی اب تک نو خلاف ورزیاں ہوئی ہیں: روس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ام میں لڑائی شروع ہونےکے پانچ برس بعد پہلی مرتبہ لڑائی میں وقفہ آیا ہے

روس کا کہنا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران شام میں عبوری جنگ بندی کے معاہدے کی نو بار خلاف ورزی کی گئی ہے۔

صدر بشارالسد کے حامی روس کے مطابق خلاف ورزیوں کے باوجود ملک میں جنگ بندی کا معاہدہ قائم ہے۔

خیال رہے کہ شام میں عبوری جنگ بندی کا آج دوسرے روز ہے۔

شام کے شہر حلب میں جہاں گذشتہ پانچ سال سے لڑائی جاری ہے، خاموشی رہی۔ اطلاعات کے مطابق جلد ہی محصور علاقوں میں امدادی سامان بھی بھیجا جائے گا۔

شام میں لڑائی شروع ہونےکے پانچ برس بعد پہلی مرتبہ لڑائی میں وقفہ آیا ہے۔ صدر بشار الاسد کی حامی افواج اور سو کے قریب باغی گروہوں کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کےمعاہدے پر عمومی طور پر عمل ہو رہا ہے۔

Image caption شام میں عارضی جنگ بندی دوسرے دن میں داخل ہو گئی ہے

عبوری جنگ بندی کی ابتدا گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب دس بجے ہوئی۔

اطلاعات کے مطابق محاذ پر خاموشی ہے۔ البتہ شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دمشق کے رہائشی علاقوں پر کئی شیل فائر کیےگئے۔ باغیوں اور حکومتی افواج کے مابین چھوٹے پیمانے پر جھڑپوں کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سٹیفن ڈی میستورا نے کہا ہے کہ اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو امن مذاکرات 7 مارچ کو دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں اس میں کوئی شک نہیں کہ (جنگ بندی کے) اس عمل کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں کوئی کسر چھوڑی جائے گی۔

اس عبوری جنگ بندی کے معاہدے میں سرکاری فوج اور سو کے قریب باغی گروپ شامل ہیں لیکن اس کا اطلاق دولت اسلامیہ اور القاعدہ سے منسلک النصرۃ فرنٹ جیسی شدت پسند تنظیموں پر نہیں ہوگا۔

النصرۃ نے جمعے کو اپنے حامیوں اور اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ شامی صدر بشار الاسد کی افواج اور ان کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائیں۔

اسی بارے میں