2016 امریکی انتخابات: سپر ٹیوزڈے کا سخت مقابلہ

Image caption ریپبلیکن پارٹی یا ڈیمو کراٹک پارٹی کے امیدوارو چننے کے 12 امریکی ریاستیں منگل کو اپنے ووٹ دیں گی

رواں سال نومبر میں منعقد ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب میں رپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹ پارٹی کی نامزدگی کے حصول کی دوڑ میں شامل امیدواروں کو ’سپر ٹیوز ڈے‘ کو گیارہ ریاستوں میں انتخابات کی صورت میں بڑے انتخابی امتحان کا سامنا رہا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ یہ ’پرائمریز‘ امیدواروں کے لیے فیصلہ کن ہوں گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلری کلنٹن تیسرے مرحلے میں کامیاب

یہ پرائمریز مشرقی ریاست ورمونٹ سے لے کر جنوبی ریاست ٹیکساس اور جورجیا میں منعقد ہوئی ہیں۔

ان سے قبل چار ریاستوں میں ابتدائی ووٹنگ کے بعد رپبلکن پارٹی کی نامزدگی کے خواہشمند ڈونلڈ ٹرمپ نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ دوسری طرف ہلری کلنٹن نے ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے سب سے زیادہ ووٹ لے چکی ہیں۔

ٹرمپ کے حریف سینیٹر ٹیڈ کروز ٹیکسس کی ریاست میں شکست کے متحمل نہیں ہو سکتے جو ان کی آبائی ریاست ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہلری کلنٹن امید کر رہی ہیں کہ ریاست ساؤتھ کارولائنا میں اختتام ہفتے کے دوران ان کی جیت ان کی سیاسی قسمت کو بحال کرے گی

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ میساچوسٹس کی ریاست میں نہیں ہار سکتے کیونکہ اگر ریاست کے اعتدال پسند ووٹروں نے انھیں ووٹ نہیں دیے تو ملک بھر میں ان کی مہم کی رفتار ماند پڑ جائے گی۔

ہلری کلنٹن امید کر رہی ہیں کہ ریاست ساؤتھ کیرولائنا میں اختتام ہفتے کے دوران ہونے والی ان کی جیت ان کی سیاسی ساکھ کو بحال کرے گی۔

اس سے پہلے انھوں نے نیو ہیمشائر میں برنی سینڈرز کے ساتھ مقابلے میں بری طرح سے شکست کھائی تھی جو کہ ان کے ڈیموکریٹ حریف ہیں۔

آٹھ نومبر کو امریکہ براک اوباما کا جانشین منتخب کرے گا جنھوں نے دو مرتبہ مدتِ صدارت مکمل کی ہے۔

اسی دوران رپبلکن پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق منگل کو منعقد ہونے والے رپبلکن مقابلوں میں ڈونلڈ ٹرمپ تقریباً تمام 11 ریاستوں میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کر سکیں گے جن میں ایلاباما، آرکنساس، جورجیا، میساچوسٹس، اوکلاہوما، ٹینیسی، ٹیکسس، ورمونٹ، ورجینیا، الاسکا اور منیسوٹا شامل ہیں۔

ٹیڈ کروز اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد سب سے معروف رپبلکن امیدوار مارکو روبینو ہیں جو امید کر رہے ہیں کہ وہ 15 مارچ کو اپنی آبائی ریاست فلوریڈا میں جیت سکیں گے جس کے باعث وہ بھی نامزدگی کی دوڑ میں شامل رہ سکیں گے۔

ڈیموکریٹ منگل کو الباما، آرکنساس، جارجیا، میسی چوسٹس، اوکلاہوما، ٹینیسی، ٹیکساس، ورمونٹ، ورجینیا، کولوراڈو اور منیسوٹا کے ساتھ ساتھ امریکی سر زمین ساموا میں اپنے ووٹ ڈالیں گے۔

بیرونی ممالک میں رہنے والے ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان بھی اپنے ووٹ ڈالیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈیموکراٹک پارٹی سے صدارتی امیدوار کے خواہشمند برنی سینڈرز نے نیو ہیمشائر کی ریاست میں ہلری کلنٹن کو شکست دی تھی

ساؤتھ کیرولائنا میں سیاہ فام ووٹروں کے 80 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے بعد ہلری کلنٹن امید کر رہی ہیں کہ الباما، جارجیا اور ورجینیا میں مقیم سیاہ فام ووٹرز بھی انھیں ووٹ دیں گے۔

ڈیموکریٹ پارٹی کی نامزدگی کے امیدوار برنی سینڈرز کی بیوی جین سینڈرز کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر سپر ٹیوزڈے کو ایک ’مشکل رستے‘ پر چلیں گے لیکن وہ اپنی مہم کو جولائی کے ڈیموکریٹ کنونشن تک لے کر جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’وہ کچھ ریاستوں میں جیتیں گے اور کچھ ریاستوں میں ہاریں گے اور ہمارا خیال ہے کہ مہم آگے بڑھنے کے ساتھ صورت حال بہتر ہو گی۔‘

اسی بارے میں