بچی کا سر قلم ’اللہ کے حکم پر کیا‘، ملزمہ کا بیان

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے ان کے خیال میں بوبوکولووا کو کسی نے اس جرم کے لیے ’مشتعل‘ کیا ہے

روس میں ایک چار سالہ بچی کے قتل اور اس کا سر قلم کرنے کے الزام میں گرفتار ایک آیا کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کام ’اللہ کے حکم‘ پر کیا ہے۔

38 سالہ گل چہرا بوبوکولووا نے اس امر کا اظہار ماسکو کی ایک عدالت میں جاتے ہوئے کیا۔

گل چہرا بوبوکلووا تین بچوں کی ماں ہیں، وہ مسلمان ہیں اور ان کی شہریت ازبک ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنا جرم قبول کرتی ہیں تو انھوں نے کہا ’ہاں‘۔

خیال رہے کہ سی سی ٹی وی کی فوٹیج میں انھیں حجاب میں ملبوس ایک میٹرو سٹیشن کے قریب ہاتھ میں ایک سر اٹھائے دیکھا جا سکتا تھا۔

روسی ذرائع ابلاغ کے مطابق انھوں نے ایک تھیلے سے سر نکالا اور جب ایک پولیس اہلکار نے ان سے شناختی دستاویزات طلب کیں تو انھوں نے چلانا شروع کر دیا کہ وہ خود کو دھماکے سے اڑا لیں گی۔

انٹرنیٹ پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں سیاہ لباس میں ملبوس خاتون کو یہ کہتے بھی سنا جاسکتا ہے کہ ’میں دہشت گرد ہوں۔ میں تمہاری موت ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماسکو میں شہری اوکتابرسکوئے پولئے میٹرو سٹیشن کے باہر پھول اور بچوں کے کھلونے رکھ رہے ہیں

تفتیش کاروں نے ماسکو کی پریسنینسکی ڈسٹرکٹ کورٹ کو بتایا کہ انھیں اس کارروائی میں کسی اور کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

تاہم پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے ان کے خیال میں بوبوکولووا کو کسی نے اس جرم کے لیے ’مشتعل‘ کیا ہے۔

روسی حکام کا کہنا تھا کہ بوبوکولووا ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہیں۔

اخبار ماسکو ٹائمز کے مطابق تفتیش کاروں کے خیال میں انھوں نے چار سالہ لڑکی کے قتل سے پہلے اس کے والدین کے گھر سے جانے کا انتظار کیا، گھر کو آگ لگائی اور فرار ہوگئیں۔

ماسکو میں شہری اوکتابرسکوئے پولئے میٹرو سٹیشن اور بچی کے گھر کے باہر پھول اور بچوں کے کھلونے رکھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ازبکستان مسلم اکثریتی وسطی ایشیائی ریاستوں میں ایک ہے اور عرصہ دراز سے روسی دارالحکومت میں یہاں سے افراد ملازمت کے لیے آتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں