’پناہ گزینوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پناہ گزین مقدونیہ کی سرحد پر روکے جانے کے بعد اب یونان کی سرحد پر جمع ہو رہے ہیں

یورپ میں نیٹو کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ شام اور روس ایک لائحہِ عمل کے تحت پناہ گزینوں کو یورپ کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

امریکی جنرل فلپ بریڈ لو کا کہنا تھا کہ یورپ کے خطے کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پناہ گزینوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

تارکین وطن کا بحران، یورپی یونین کی ہنگامی منصوبہ بندی کےلے کیمپ کی مسماری کی کوشش کے دوران جھڑپیں

انھوں نے مزید کہا کہ جرائم پیشہ افراد، شدت پسند اور جنگجو بھی پناہ گزینوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔

پناہ گزین مقدونیہ کی سرحد پر روکے جانے کے بعد اب یونان کی سرحد پر جمع ہو رہے ہیں۔

گذشتہ برس سمندر کے راستے یورپ آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد 10 لاکھ تھی جبکہ رواں برس یہ تعداد بہت پہلے ہی 10 لاکھ ہو جائے گی۔

مہاجرین کی عالمی تنظیم آئی او ایم کا کہنا ہے کہ قریباً 12 لاکھ ساڑھے 29 ہزار مہاجرین اب تک سمندر کے راستے اور 1545 زمینی راستے سے یورپ پہنچ چکے ہیں۔ تنظیم کے مطابق 418 افراد یا تو ڈوب گئے ہیں یا لاپتہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یورپی کمیشن نے پیر کی صبح پناہ گزینوں پر آنسو گیس کے استعمال کے بعد مقدونیہ پر تنقید کی۔

انسانی امداد کے کمشنر کرسٹوس سٹیلیئنڈس کا کہنا ہے کہ یورپی کمیشن نے 70 کروڑ یورو کی امداد کی تقسیم کے لیے ایک منصوبہ بنایا ہے تاکہ سنہ 2016 سے 2018 تک بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی امداد فراہم کی جا سکے۔

اس بحران کے باعث کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب یونان کو پناہ گزینوں کے ریلے سے نمٹنے میں مشکلات پیش آئی اور یورپی کمیشن نے پیر کی صبح پناہ گزینوں پر آنسو گیس کے استعمال کے بعد مقدونیہ پر تنقید کی۔

یورپی کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ ’یہ منظر جو ہم نے ابھی دیکھا یہ اس بحران سے نمٹنے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔‘

اقوام متحدہ نے یونان کی سرحد کے قریب تارکین وطن کے بڑی تعداد میں جمع ہونے کے نتیجے میں تباہ کن نتائج کے حامل بحران کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ مقدونیہ سے متصل سرحد پر ہزاروں پناہ گزین پھنسے ہوئے ہیں۔

یہ منصوبہ یورپی یونین کی ایگزیکیٹو تنظیم یورپی کمیشن کے ذریعے پیش کیا جائے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ یورپی یونین کی امدادی ایجنسیاں پہلی بار اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر یورپ کے اندر براہ راست تعاون کریں گی۔

ادھر فرانس کے علاقے کیلے میں مہاجر بستی کے جنوبی حصے کے انہدام کا کام جاری ہے جسے حکومت نے انسانی امداد کا آپریشن قرار دیا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے صرف یہ ہوگا کہ سینکڑوں بے چین پناہ گزین آنے والی سردیوں میں بے سایہ ہو جائیں گے۔

جنرل فلپ بریڈ لو کا کہنا تھا کہ کا کہنا ہے روس اور شامی صدر بشارالاسد جان بوجھ کر پناہ گزینوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں تاکہ یورپی ساخت کو خراب کیا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ ’شام میں بیرل بم استعمال کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد شہریوں کو خوفزدہ کرنا ہے تاکہ وہ گھر بار چھوڑ کر بھاگ نکلیں اور دوسرے ممالک کے لیے مسائل کھڑے کر دیے جائیں۔‘

ان کے بقول ان سے یورپ میں مزید امریکی فوجیوں کی تعینایتی کی درخواست کی گئی ہے جو اس وقت 62000 ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کی ایجنسی یو این ایچ سی آر نے متبہ کیا تھا کہ ’یورپ اپنے ہی بلائے ہوئے انسانی بحران کے دہانے پر ہے۔‘ ادارے کے ترجمان ایڈرین ایڈوارڈس نے کہا کہ یونان کی سرحد پر بھیڑ کی وجہ سے خوراک، رہائش، پانی اور رفع حاجت کی سہولتوں کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔

Image caption جنرل فلپ بریڈ لونے مزید کہا کہ ان پناہ گزینوں میں شدت پسند، جنگجو اور جرائم پیشہ افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں

اسی بارے میں