ریپبلکن رہنماؤں کی ڈونلڈ ٹرمپ پر کڑی تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کے سینئیر رہنماؤں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کرنے کی کوششوں کی مخالفت کر دی ہے۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو ریپبلکن جماعت کا صدارتی امیدوار بننے کے لیے گیارہ میں سے سات ریاستوں میں کامیابی حاصل کی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ خود کو ’ریپبلکن پارٹی کو متحد کرنے والی شخصیت‘ قرار دے چکے ہیں تاہم رپبلکن اسٹیبلشمنٹ ان کے اس بیان کی بھر پور مخالفت کر رہی ہے۔

ریپبلکن پارٹی کے سینیٹر لنڈسے گراہم نے بدھ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ رواں برس نومبر میں ہونے والا صدارتی انتخاب ہار جائیں گے۔

ریپبلکن پارٹی کے رہنما مٹ رومنی کے بارے میں امید کی جا رہی ہے کہ وہ جمعرات کو ایک تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ کو چیلنج کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سپر ٹیوز ڈے کے انتخاب میں فتح حاصل کر کے اپنی جماعت کی جانب سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کرنے کی پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔

ٹرمپ کے مخالف ریپبلکن امیدوار ٹیڈ کروز نے سپر ٹیوز ڈے کے انتخاب میں چار ریاستوں میں جبکہ مارکو ربیو صرف منیسوٹا میں کامیابی حاصل کر سکے۔

ریپبلکن پارٹی کے ٹرمپ، کروز، روبیو اور جان جمعرات کو فاکس نیوز پر ریپبلکن پارٹی کی بحث میں حصہ لیں گے۔

ریپبلکن پارٹی کے متعدد رہنماؤں جس میں پال رائن اور لنڈسے گراہم بھی شامل نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ دنوں کے دوران متنازع پالییسوں کی مخالفت کی ہے۔

پال رائن نے منگل کو ٹرمپ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ’ عوام تعصب رکھنے والے کسی بھی گروہ کو مسترد کر دیں۔‘

لنڈسے گراہم نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ’اگر ٹرمپ پارٹی کے صدارتی امیدوار بن گئے تو ریپبلکنز ہلری کلنٹن سے ہار جائیں گے۔‘

امریکی کانگریس کے ایک بااثر رہنما پیٹر کنگ نے مذاقاً کہا کہ اگر ٹرمپ پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائز کے مطابق کچھ پارٹی ڈونرز پہلے سے ہی ٹرمپ مخالف مہم کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں