برطانوی قاری کے قتل کے شبہے میں ایک اور گرفتار

جلال الدین تصویر کے کاپی رائٹ Greater Manchester Police
Image caption جلال الدین کو 18 فروری کو مسجد کے قریب ایک پارک میں زخمی حالت میں پایا گیا تھا

برطانیہ کے علاقے روشڈیل میں مسلمان برادری کی ایک اہم شخصیت کے قتل کے سلسلے میں مزید ایک اور شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

جلال الدین سید 18 فروری کو جلالیہ جامعہ مسجد کے قریب ایک پارک میں زخمی حالت میں پائے گئے تھے۔ ان کے سر پر ضرب لگائی گئی تھی اور وہ بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔

21 برس کے ایک نوجوان 64 سالہ جلال الدین کے قتل کے شبہے میں گرفتار کیے جانے والے تیسرے شخص ہیں۔

اس سے پہلے بھی روشڈیل کے ہی 21 سالہ محمد حسین سیعدی کو جلال الدین کے قتل اور قتل کے منصوبے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ایک 17 سالہ نوجوان کو بھی شبہے میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن وہ 20 اپریل تک ضمانت پر ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جلال الدین جلالیہ مسجد میں قاری تھے اور واقعے کے روز وہ اپنے ایک دوست کے گھر سے واپس آ رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔

پولیس ان افراد سے اپیل کر رہی ہے جو کہ حملے کے وقت ساؤتھ سٹریٹ کے علاقے میں موجود تھے کہ وہ کسی بھی طرح کی اطلاع کے لیے پولیس سے رابطہ کریں۔

اسی بارے میں