سوشل میڈیا پر سعودی ’سپر سٹارز‘

ایک ایسی قوم کے لیے جس کے بادشاہ کا اپنے بارے میں کہنا ہے کہ وہ ’دو مقدس مساجد کے نگران ہیں‘ شاید یہ حیران کن نہ ہو کہ سعودی عرب کے سوشل میڈیا پر زیادہ تر ’سپر سٹارز‘ علما ہیں۔

فطری طور پر شہرت تنازع کے بغیر نہیں آتی۔ تو ٹوئٹر پر یہ کثیر تعداد میں مذہبی لوگ کون ہیں جن کا موازنہ پاپ سٹارز اور عالمی رہنماؤں کے ساتھ ہو رہا ہے؟ اور یہ لوگ آن لائن کیا شیئر کرتے ہیں؟

بی بی سی کی سلسلہ وار سیریز ’سعودی سوشل میڈیا پر: ایمان، آزادی اور تفریح‘ میں ٹوئٹر پر چار مشہور ترین سعودی اکاؤنٹس کا جائزہ لیا گیا ہے۔

محمد ال عارفی:

Image caption محمد ال عارفی مسلمان علماء کے ’بریڈ پٹ‘

مسلمان علما کے ’بریڈ پٹ‘ کہے جانے والے محمد ال عارفی مسلم دنیا اور سعودی عرب کی نامور مذہبی شخصیت ہیں۔ وہ اپنی کرشماتی شخصیت کے لیے بھی مشہور ہیں۔ تاہم اپنے خیالات کی وجہ سے وہ متنازع بھی رہے ہیں۔

بعض تنازعات خواتین کے متعلق ہیں۔ سنہ 2007 میں ایک ٹی وی شو میں محمد ال عارفی نے کہا تھا کہ ایک مرد جس کی بیوی اس کی نافرمانی کرتی ہے وہ اسے ’تھوڑا سا مار سکتا ہے۔‘

سنہ 2012 میں محمد ال عارفی نے سلسلہ وار ٹوئٹس میں خواتین کے گھروں سے باہر جا کر کام کرنے کی اجازت دینے کی مخالفت کی تھی۔

محمد ال عارفی کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کچھ مسائل کے باوجود ان کے سعودی حکومت اور حکمران خاندان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

سنہ 2014 میں ال عارفی کو مکہ میں مقدس مقامات کو جوڑنے والے ٹرین نیٹ ورک پر تنقید کرنے پر گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دنیا کا ’خراب ترین نیٹ ورک ہے۔‘

تاہم محمد ال عارفی کے خیالات صرف سماجی کاموں تک ہی محدود نہیں ہیں۔ ان کی خطے کی سیاست میں بھی کافی گہری دلچسپی اور شمولیت ہے۔ محمد ال عارفی شیعہ مسلمانوں کے بارے میں اپنے سخت خیالات کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں اور ان پر فرقہ وارانہ تناؤ بڑھانے کا الزام بھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق انھوں نے کہا تھا کہ شیعہ ’کافر ہیں اور انھیں قتل کیا جانا چاہیے۔‘

جب بات جہادی گروہوں کی آتی ہے تو وہ متضاد بیانات دیتے ہیں۔

مصر میں سنہ 2013 میں محمد ال عارفی نے اپنے خطاب میں شامی صدر بشار الاسد کے خلاف جہاد کا کہا تھا۔ان پر القاعدہ اور اس کے رہنما اسامہ بن لادن کے دفاع میں دیے گئے بیان کو واپس لینے پر زور دیا گیا تھا۔

احمد ال شغری:

Image caption احمد ال شغری ’کول مبلغ‘

اگر کبھی بھی کوئی ’کول‘ مسلم مبلغ رہے ہیں تو وہ احمد ال شغری ہوں گے۔

دس سال قبل وہ اپنے ٹی وی پروگرام کے لانچ کے بعد ہی مشہور ہو گئے تھے۔ جس میں وہ مختلف ممالک میں جینز اور ٹی شرٹ پہنے اسلام کے بارے میں بات کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔

ان کے خیالات اور انداز کی وجہ سے لاکھوں نوجوان ان کے مداح بنے جو کہتے ہیں کہ وہ احمد ال شغری کی جدید سوچ کی وجہ سے ان کے مداح بنے ہیں۔

اور جب نوجوان ٹی وی سے دور ہوئے اور سوشل میڈیا پر آئے تو احمد ال شغری وہ پہلی شخصیت تھے جن کی جانب وہ سب سے پہلے بڑھے۔ جس کی وجہ سے احمد ال شغری کو با اثر ڈیجیٹل موجودگی بنانے میں مدد ملی۔

احمد ال شغری اس بات کی مخالفت کرتے ہیں کہ انھیں عالم کہا جائے لیکن اس کے باوجود مسلمان مبلغوں کے درمیان انھیں ایک اعتدال پسند بااثر آواز کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

تاہم بعض افراد کا کہنا ہے کہ 42 سالہ احمد ال شغری کو دیگر علما سے الگ کرنے والی چیز ان کا انداز ہے نظریات نہیں۔

لبرلز کو یہ ڈر ہے کہ ال شغری عرب دنیا کے سیکولر ذہنوں میں اسلام پھیلانے کی ایک با اثر قوت ہیں۔ جبکہ دوسری جانب سخت گیر علما نے ال شغری کو اوسط درجے کے عالم کہہ مسترد کر دیا ہے جو بقول ان کے ’آسان اسلام‘ کی تبلیغ کرتے ہیں۔

جب شدت پسندی کی بات آتی ہے تو احمد ال شغری کا پیغام بہت واضح ہے: ’اسلام تشدد کا مذہب نہیں ہے۔‘

سلمان ال عضیٰ:

Image caption سلمان ال عضیٰ ’بحالی کے عمل‘ سےگزرنے والے عالم

سلمان ال عضیٰ ممتاز سعودی عالم ہیں جو کبھی اپنے انتہا پسندانہ مذہبی خیالات اور حکومت مخالف پوزیشن کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ لیکن سنہ 1994 میں پانچ سال جیل کی سزا کے بعد وہ مکمل طور پر تبدیل ہو گئے۔

کئی افراد کا کہنا ہے کہ عضیٰ کی بحالی کے بعد سے ان کے خیالات میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے۔ یہاں تک کہ حکومت کی مخالفت میں بھی کافی نرمی دیکھی گئی ہے۔ تاہم وہ اب بھی اکسانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سنہ 2012 میں سلمان ال عضیٰ کی وجہ سے اس وقت بحث شروع ہوئی جب حج کے دوران مکہ میں ٹریفک سے بچنے کے لیے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ان کی ایک تصویر منظر عام پر آئی تھی۔ ان کے اس اقدام کو ایک مذہبی رہنما کے لیے نامناسب قرار دیا گیا تھا۔

بطور سوشل میڈیا کے شوقین سلمان ال شغری اپنے لاکھوں فالوورز کے ساتھ خیالات کے اظہار اور میل جول سے بہت کم ہی ہچکچاتے ہیں۔

سنیپ چیٹ پر اپنے ایک فالوور کو جواب دیتے ہوئے عضیٰ نے کہا کہ مرد کو صرف ایک ہی شادی کرنی چاہیے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں ایک سے زیادہ شادیاں بڑے پیمانے پر کی جاتی ہوں ان کا یہ بیان انتہائی غیر مقبول رہا تھا۔

صرف خواتین کے بارے میں ہی ان کے خیالات میں تبدیلی نہیں آئی بلکہ سلمان ال عضیٰ نے فساد اور شدت پسندی سے بھی خود کو دور کر لیا ہے۔ اپنی ٹوئٹس اور وڈیوز میں سلمان ال عضیٰ اب ’پیار‘ اور ’رحم‘ کی بات کرتے اور تشدد کی مخالفت کرتے ہوئے دیکھے جاتے ہیں۔

امریکہ پر 11 ستمبر سنہ 2001 میں ہونے والے حملے کے چھ سال مکمل ہونے پر انھوں نے ایک تقریر کی جس میں انھوں نے القاعدہ کے ہلاک کیے جانے والے رہنما اسامہ بن لادن سے سوال کیا کہ ’کیا آپ سینکڑوں، ہزاروں یا لاکھوں متاثرین کا بوجھ اٹھائے خدا سے ملاقات کرنے پر خوش ہوں گے؟‘

نوال ال عید:

Image caption نوال ال عید خاتون مبلغ

نوال ال عید سعودی عرب کی سب سے زیادہ نمایاں خاتون مبلغوں میں سے ایک ہیں۔ عرب خواتین سے متعلق ایک میگزین کے مطابق نوال ال عید کو ٹوئٹر پر سب سے زیادہ بااثر سعودی خاتون ہونے کا ووٹ دیا گیا ہے۔ تاہم نوال ال عید نے کبھی اپنی تصاویر شائع نہیں کی ہیں۔

ریاض میں خواتین کی ایک یونیورسٹی میں پڑھانے کے ساتھ ساتھ نوال ال عید خواتین کے حقوق پر ریڈیو پروگرام کی میزبانی کرنے کے بعد مزید مشہور ہو گئی ہیں۔

اپنے دیگر مرد ساتھیوں کی طرح نوال ال عید بھی سلفی پس منظر سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے خیالات کی وجہ سے گرما گرم بحث چھڑ جاتی ہے۔

اپنے ایک آرٹیکل میں انھوں نے سنہ 2013 میں لکھا تھا کہ وہ سعودی عرب میں ہراساں کیے جانے کے خلاف قانون سازی کی مخالفت کرتی ہیں۔ اس قانون سازی کا مطلب مجرم کو ایک سال جیل کی سزا اور ایک لاکھ سعودی ریال جرمانہ کیا جانا ہے۔

نوال ال عید کے خیال میں اس قسم کے قوانین اس مسئلے کی جڑ تک نہیں جاتے۔ ان کا کہنا تھا اس کی بجائے نوجوانوں کو ایسے کاموں سے روکنے کے لیے سیدھا سادھا لباس اور مرد اور خواتین میں کم میل جول ہی بہتر حل ہے۔

ایک آرٹیکل میں جس کا عنوان ’سب سے بڑا جھوٹ‘ تھا نوال ال عید نے مرد اور خوتین کے درمیان برابری کے خلاف بحث کی ہے۔

انھوں نے لکھا کہ ’کیا عورت کا کمزور جسم وہ برداشت کر سکتا ہے جو مرد کا مضبوط جسم کر سکتا ہے؟

اسی بارے میں