ایلان کردی کی ہلاکت پر دو شامیوں کو جیل بھیج دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یونان کے جزیرے کوس جانے کی کوشش میں آلان، اس کا پانچ سالہ بھائی گالپ اور والدہ ریحان کشتی ڈوب جانے کے باعث ہلاک ہو گئے تھے

ترکی کی ایک عدالت نے تین سالہ ایلان کردی اور چار دیگر افراد کی ہلاکت پر دو شامیوں کو چار سال جیل کی سزا سنائی ہے۔

گذشتہ ستمبر میں ترکی کے ساحل پر اوندھے منہ پڑے تین سالہ ایلان کردی کی تصویر نے دنیا بھر کی توجہ پناہ گزینوں کے تنازع کی طرف دلائی تھی۔

موفاوقا العبش اور عاصم الفرہاد پر انسانی سمگلنگ کا جرم ثابت ہوا ہے لیکن ان پر یہ الزام ثابت نہیں ہوا کہ ایلان اور چار دیگر افراد کی موت ’جان بوجھ کر غفلت برتنے‘ سے ہوئی۔

روزانہ ہزاروں تارکین وطن اور پناہ گزین ترکی سے یونان میں داخل ہوتے ہیں۔

العبش اور الفرہاد کے خلاف مقدمہ ترکی کے شہر بودرم میں چلایا گیا۔ یہ وہی شہر ہے جس کے ساحل پر ایلان کی لاش ملی تھی۔

ان دونوں افراد کو 35، 35 سال جیل کی سزا سنائی گئی تھی تاہم دونوں نے فروری میں درخواست دائر کی تھی کہ وہ مجرم نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ ترکی کے بودرم جزیرہ نما سے یونان کے جزیرے کوس جانے کی کوشش میں ایلان، اس کا پانچ سالہ بھائی گالپ اور والدہ ریحان کشتی ڈوب جانے کے باعث ہلاک ہو گئے تھے۔

تاہم اس حادثے میں ان کے والد محفوظ رہے تھے جو اب عراق میں رہائش پذیر ہیں۔

تارکین وطن کے تنازع سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی تازہ کوششوں کے تحت یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک اور ترکی کے صدر طیب اردوغان کے درمیان جمعے کو ملاقات ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں