پناہ گزینوں کے مخالف رابرٹ فیکو نے اکثریت کھو دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty Images
Image caption رابرٹ فیکو نے کہا تھا کہ وہ پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں آنے کی اجازت نہیں دی گے

سلوواکیا کے بائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم رابرٹ فیکو نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی لیکن اب تک آنے والے نتائج کے مطابق انھوں نے پارلیمان میں اکثریت کھو دی ہے۔

ایسا لگ رہا ہے کہ تیسری مرتبہ وزیرِ اعظم بننے کے لیے انھیں اب اتحادی حکومت بنانا پڑے گی۔

چھوٹی جماعتوں کی جانب سے نشستیں حاصل کرنے کے بعد پارلیمان منقسم ہو گیا ہے اور اکثریتی حکومت بننے کا امکان نہیں رہا۔

رابرٹ فیکو نے کہا تھا کہ وہ پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کا ملک گردش کی پالیسی کے تحت جولائی میں یورپی یونین کا صدر بنے گا۔ پناہ گزینوں کے حوالے سے یہی یہ سخت موقف دیگر رکن ممالک کا بھی ہے جن میں پولینڈ، چیک ریپبلک اور ہنگری کے رہنما شام ہیں۔

سلوواکیا میں نرسوں اور اساتذہ نے حال ہی میں تنخواہوں میں اضافے کے لیے ہڑتالیں کی تھیں۔ ہڑتالوں کی وجہ سے ملک کی مضبوط اقتصادی ترقی کے باجود بعض شعبوں میں موجود عدم اطمینان کی صورتحال سامنے آئی۔

رابرٹ فیکو جو سمر سوشل ڈیموکریسی پارٹی کے سربراہ ہیں وہ اپنی بعض پالیسیز کے لیے مشہور ہیں جن میں طلبا اور پینشن حاصل کرنے والے افراد کے لیے ٹرین کا مفت سفر شامل ہے۔

51 سالہ بائیں بازو کے یہ قوم پرست رہنما نے یورپی یونین کی جانب سے پناہ گزیوں کی آباد کاری کے فیصلے کی بلاخوف مخالفت کی۔ اس فیصلے کے مطابق ان کے ملک کو 2600 افراد کو پناہ دینی تھی۔

سلوواکیا کو گذشتہ برس صرف 260 پناہ کی درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔

اسی بارے میں