ترکی سے یونان جاتے ہوئے کشتی کو حادثہ، 25 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق اب تک 15 افراد کو زندہ بچایا جا چکا ہے۔

ترکی میں کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ ترکی سے یونان جانے والے تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 25 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

سیاحتی مقام ڈبیم کے قریب حادثے کا شکار ہونے والی اس کشتی پر سوار دیگر 15 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی بہبود کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کا کہنا ہے کہ یکم اور تین فروری کے درمیانی دنوں میں یونان پہنچنے کی کوشش میں کم از کم 321 تارکین وطن سمندر میں ڈوب کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

دریں اثنا مقدونیہ نے یونان سے اپنے ہاں آنے والے پناہ گزینوں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں ہیں جن سے خدشہ ہے کہ مقدونیہ کی سرحد پر تارکین وطن کی تعداد اور ان کی مشکلات قابو سے باہر ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب نیٹو نے اپنا مشن ایجیئن میں بڑھانے کا کہا ہے تاکہ ترکی اور یونان کے درمیان انسانی سمگلروں سے نمٹنا جا سکے۔

سیکریٹری جنرل جینز سٹالٹینبرگ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’نیٹو کی تعیناتی کا مقصد تارکین وطن کی کشتیوں کو روکنا نہیں ہے بلکہ انسانی سمگلروں سے نمٹنے کے لیے اپنے اتحادیوں یونان اور ترکی کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کی جانب سے کی جانے والی کوششوں میں مدد کرنا ہے۔‘

ترک خبر رساں ادارے انادولو کا کہنا ہے کہ بحیرہ ایجین میں کشتی ڈوبنے کے اس تازہ ترین حادثے کے بعد مسافروں کی تلاش اور ان کے بچاؤ کی کارروائیاں جاری ہیں اور اب تک 15 افراد کو زندہ بچایا جا چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترکی سے روزانہ تقریباً دو ہزار تارکین وطن یونان پہنچ رہے ہیں

کہا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں تین بچے بھی شامل ہیں۔

ترکی سے روزانہ تقریباً دو ہزار تارکین وطن دیگر یورپی ممالک تک پہنچنے کی کوشش میں یونان پہنچ رہے ہیں اور آئی او ایم کا کہنا ہے کہ ان کی اکثریت شام، عراق اور افغانستان سے آنے والے پناہگزینوں کی ہے۔

لیکن دوسری جانب کچھ یورپی ممالک نے اپنی سرحدوں پر پہنچنے والے تارکین وطن پر دوبارہ سے پابندیاں لگانا شروع کر دی ہیں اور مقدونیہ نے کی جانب سے سختی کے بعد تارکین وطن کی اس تعداد میں تیزی کے ساتھ کمی ہو گئی ہے جنھیں مقونیہ کی سرحد عبور کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

چند دن قبل یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ڈسك نے پناہ گزینوں کے بحران کو حل کرنے کی ایک نئی کوشش کے حوالے سے غیر قانونی طریقے سے یورپ آنے والے پناہ گزینوں کو خبردار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ تارکینِ وطن کو انسانی اسمگلروں پر بھروسہ کر اپنی ’زندگی اور دولت‘ کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہیے۔

ڈونلڈ ڈسك نے جمعرات کو ترکی اور یونان کا دورہ کر کے تارکینِ وطن کی مغرب کی جانب پیش قدمی کو کم کرنے کے لیے بات چیت کی تھی۔

اسی بارے میں