رقہ ڈائری: ’میرے شہر پر دولت اسلامیہ کا قبضہ‘

کسی کو بھی معلوم نہیں کہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم نے جس نام نہاد خلافت کا اعلان کر رکھا ہے اس میں عام لوگوں کو روز مرہ کن بہیمانہ حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے لیے شام سے خبریں بھیجنا اس قدر خطرناک ہو چکا ہے کہ چند ہی صحافی ان علاقوں کے قریب جانے کی ہمت کرتے ہیں جو دولت اسلامیہ کے قبضے میں ہیں۔ لیکن شام میں کئی ایسے سرگرم گروپ یا تنظیمیں موجود ہیں جو اپنی جان پر کھیل کر باقی دنیا کو اپنے حالات سے باخبر رکھنے کے لیے غیر روایتی راستوں سے خبریں بھیج رہے ہیں۔

گذشتہ تین ماہ سے ہم نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے دارالخلافے رقہ میں مقیم ایک سرگرم کارکن سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جو ’الشرقیہ 24‘ نامی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ مذکورہ کارکن ایک عرصے سے اپنی ڈائری میں رقہ کے شب و روز کے حالات رقم کر رہے ہیں۔ ان کے اس روزنامے میں وہ نہ صرف روز مرہ حالات کا ذکر کرتے ہیں بلکہ تشدد اور خوف کی اس کیفیت کو بھی بیان کر رہے ہیں جو شہر میں معمول بن چکی ہے۔ درج ذیل ڈائری اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔

’’ آج جمعہ ہے۔ ماضی میں آج کے دن ہم نماز کے بعد گلی میں جمع ہوا کرتے تھے اور دیر تک بات چیت کرتے تھے۔ اب کسی بھی عوامی جگہ پر اجازت کے بغیر اکٹھا ہونے پر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف منصوبہ سازی کا الزام عائد ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

میں ایک عوامی چوک پر ہجوم کے پاس سے گزر رہا ہوں۔ میں اس ہجوم میں شامل نہیں ہونا چاہتا کیونکہ ہوسکتا ہے انھیں کسی کا سر قلم ہوتے دیکھنے کے لیے کہا گیا ہو۔ لیکن خدا کا شکر ہے اس بار صرف کوڑے مارے گئے ہیں۔ ملزم انہی میں سے ایک ہے۔ جھے بتایا گیا کہ اس شخص کا جرم ہم جنس پرستی تھا۔

کل میں کام پر واپس جاؤں گا۔ ایک نیا ہفتہ۔۔۔ آزادی کی نئی امیدوں کے ساتھ۔

لیکن میں آپ کو اس وقت کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جب دولت اسلامیہ پہلی بار میرے پیارے شہر میں داخل ہوئی۔

ماؤں عالمی دن کے دن کے موقع پر، ایک خنک صبح، میں نے جنگی جہازوں کی آواز سنی۔ میں فوراً اپنے گھر کی جانب گیا، میرے بھائی بہنوں اور میں نے ایک چھوٹی سی تقریب کا اہتمام کیا تھا۔

جیسے ہی میری ٹیکسی قریب بڑھی، دھوئیں کے بادلوں نے ہوا کو بھر دیا۔

سرکاری جنگی طیاروں نے ہماری گلی کو نشانہ بنایا تھا۔ ہر طرف ایمبولینسیں تھیں۔۔۔ لوگ ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کو اٹھائے ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔

میرے ایک پڑوسی نے مجھے بتایا کہ میرے والدین زخمی ہو گئے ہیں اور انھیں جنرل ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

جب ہم وہاں پہنچے تو وہ جگہ خون کی بو اور موت سے بھری ہوئی تھی۔ انھوں نے ہم سے کہا کہ سامنے پڑی ہوئی لاشوں کو دیکھیں کہ آیا ہمارے والدین ان مردہ لوگوں میں ہیں۔

وہاں میرے والد تھے۔ ان کا جسم بم کے نوکدار ٹکڑوں (شارپنل) سے آنے والے زخموں سے بھرا ہوا تھا۔

’تمہاری ماں کا علاج اُس طرف ہورہا ہے۔۔۔‘ ایک آہستہ سی آواز آئی، ’لیکن ابھی وہاں مت جاؤ۔‘ دو گھنٹے گزر گئے۔۔۔ آخر کار ڈاکٹر نے مجھے بلایا۔ میں نے انھیں بتایا کہ میں ان کا سب سے بڑا بیٹا ہوں۔

’میں ان کی جان بچانے میں کامیاب ہو گیا ہوں لیکن ان کی حالت اچھی نہیں ہے۔‘ اس نے کہا۔

ہمارے ایک پڑوسی جو پھلوں اور سبزیوں کی دکان چلاتے ہیں انھوں نے مدد کی پیشکش کی۔

انھوں نے کہا ’اب سے تم میرے ساتھ کام کر سکتے ہو۔‘ میں نے بغیر کسی شرط نے یہ قبول کر لیا۔

کچھ ہفتوں بعد میں دکان پر کام کر رہا تھا جب میں نے گولیوں اور بھاری ہتھیاروں کے دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ گلی میں ہر کوئی بھاگ رہا تھا۔ میرے دوست نے میرے بازو پکڑی اور کہا ’داعش (دولت اسلامیہ) نے شہر پر قبضہ کر لیا ہے۔‘

کچھ ہی دیر بعد ایک شخص جو میں نے پہلے کبھی نے دیکھا تھا مجھ پر چِلّایا۔۔۔ ’ اوئے! تم! تمباکو نوشی کی اجازت نہیں ہے!‘

ایک اور چِلّایا۔۔۔۔ ’اوئے تم! تمہاری بیوی نے پردہ کیوں نہیں کیا؟ یہ ممنوع ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

میں نے گلیوں میں لاؤڈ سپیکروں پر سنا کہ کچھ لوگوں کو مارا جانے والا ہے۔ چند نوجوان آدمیوں کا گروہ کھڑا تھا جن کی آنکھوں پر پٹیاں اور ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ ان کے سامنے ایک نقاب پوش شخص نے پڑھنا شروع کیا۔

’حسن، حکومتی فوجوں کے لیے لڑا۔ اس کی سزا: سر قلم‘

عیسیٰ ایک میڈیا کا کارکن تھا۔ اس پر ’غیرملکیوں پارٹیوں کے ساتھ بات چیت‘ الزام تھا۔ ’اس کی سزا: سر قلم۔‘

ایک تلوار بردار شخص نے ان کو سزا دی۔

میں سڑک پر بلند آواز میں لعن تعن کرتے ہوئے جارہا تھا کہ دولت اسلامیہ کی مذہبی پولیس تیزی سے آئی اور انھوں نے مجھے پکڑ لیا۔

وہ مجھے اپنے ہیڈکوارٹرز لے گئے۔ میں نے سمجھانے کی کوشش کی لیکن بلاسود۔

’تم بلند آواز میں لعن تعن کر رہے تھے۔ تمہاری سزا 40 کوڑے ہیں۔‘‘

اسی بارے میں