ترکی کا زمان اخبار اب ’حکومت نواز‘

تصویر کے کاپی رائٹ Zaman
Image caption اتوار کا شائع ہونے والی زمان اخبار کے شمارے کے پہلے صفحے پر صدراردوغان کی تصویر تھی

ترکی کے سب سے بڑے اخبار زمان کے حکومتی تحویل میں لیے جانے کے دو دن بعد اس میں حکومت نواز مضامین شائع کیے گئے ہیں۔

جمعے کو حزبِ اختلاف کے زمان اخبار کو عدالت کی جانب سے ریاستی کنٹرول میں دیے جانے کے بعد اب یہ انتظامیہ کے ماتحت ہے۔

سنیچر کو اس کے سابق مالک کے ماتحت شائع ہونے والی آخری شمارے میں کہا گیا تھا کہ ترکی میں صحافت نے ’تاریک ترین‘ دن دیکھ لیے ہیں۔

دوسری جانب زمان اخبار کے سابق عملے نے اتوار کو ایک نیا اخبار جاری کیا ہے۔

زمان اخبار کو عدالت کی جانب سے ریاستی کنٹرول میں دیے جانے کے چند گھنٹوں بعد اس کے دفاتر پر چھاپہ مارا گیا تھا تاہم اخباری عملہ سنیچر کا شمارا شائع کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

عدالت کی جانب سے اس فیصلے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی تھی۔

ترک وزیراعظم احمد داؤداوغلو کا کہنا تھا کہ یہ قبضہ ’سیاسی نہیں قانونی تھا۔‘

وزیراعظم احمد داؤداوغلو نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں کہا ’یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ میں نے یا میرے کسی ساتھی نے اس عمل میں دخل اندازی کی ہو۔‘

اتوار کو شائع ہونے والی زمان اخبار کے شمارے کے پہلے صفحے پر صدر اردوغان کی تصویر کے ساتھ یہ سرخی تھی ’پل کے حوالے سے تاریخی جوش‘۔ اس خبر کے مطابق صدر اردوغان بوسفورس میں تیسرے پل کے آخری حصے کی بنیاد رکھنے والے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دوسری جانب زمان اخبار کے سابق عملے نے اتوار کو ایک نیا اخبار جاری کیا ہے

ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال کہا گیا تھا کہ اس پل کا نام صدر اردوغان کے نام پر ہوسکتا ہے۔

اس شمارے کے حوالے سے بہت سے صحافی سوال بھی اٹھا رہے ہیں جو اس کے ساتھ وابستہ رہے تھے۔

دوسری جانب زمان اخبار کے سابق عملے نے اتوار کو یارینا باکس نامی اخبار جاری کیا ہے جس کا مطلب ‘کل کو دیکھنا‘ ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ نیا اخبار اتنے کم وقت میں کیسے شائع ہوا اور اس کی اشاعت کہاں سے ہوئی۔

اسی بارے میں