صومالیہ میں الشباب کے کیمپ پر ڈرون حملہ،’150 ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption الشباب صومالیہ میں کٹر اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق امریکی افواج کی جانب سے صومالیہ میں کیے جانے والے ایک ڈرون حملے میں شدت پسند گروہ الشباب کے درجنوں جنگجو مارے گئے ہیں۔

پینٹاگان کے ترجمان کیپٹن ڈیوس کے بقول ڈرون حملے میں گروہ کے ایک تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں شدت پسند جمع ہو کر بڑے حملے کی منصوبے بندی کر رہے تھے۔

ترجمان کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ حملے میں 150 سے زیادہ جنگجو مارے گئے ہیں۔

کیپٹن ڈیوس نے بتایا کہ سنیچر کو کی جانے والی اس کارروائی میں ملک کے دارالحکومت موگادیشو سے تقریباً 120 میل کے فاصلے پر واقع ایک کیمپ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

پینٹاگان کے ترجمان کے مطابق ’اس کیمپ کی کافی عرصے سے نگرانی کی جا رہی تھی اور ہم نے محسوس کیا کہ اب یہاں سے جلدی کارروائی کی جائے گی اس لیے اس کیمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

تاہم ترجمان نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی کہ شدت پسند کہاں حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

خیال رہے کہ الشباب صومالیہ میں کٹر اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے۔

اسے سنہ 2011 میں دارالحکومت موغادیشو سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا گیا تھا تاہم اب بھی اسے صومالیہ کے جنوبی علاقوں میں کنٹرول حاصل ہے، جہاں سے وہ ملک بھر میں حملے کرتے ہیں۔

الشباب صومالیہ کے ہمسایہ ملک کینیا میں بھی متعد کارروائیاں کر کے سینکڑوں افراد کو ہلاک کر چکی ہے۔

رواں برس میں اب تک اس تنظیم نے صومالیہ اور کینیا میں چار بڑے حملے کیے ہیں جن میں تقریباً ڈھائی سو افراد ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں