پاکستان، بھارت اور برطانیہ کے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں ایٹمی ہتھیاروں کی نمائش سالانہ دفاعی اور قومی تقریبات کا ضروری حصہ بن چکا ہے۔

بحر اوقیانوس میں واقع ایک مجموعۂ جزائر نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا ہے کہ وہ برطانیہ، بھارت اور پاکستان پر زور ڈالے کہ وہ ایٹمی ہتھیار ختم کرنے کے لیے کام شروع کر دیں۔

آئندہ ہفتے مارشل جزائر اور مندرجہ بالا تینوں ممالک عالمی عدالت میں آمنے سامنے ہوں گے۔

پیر کے روز ہونے والی سماعت میں کسی کو بھی امید نہیں کہ مارشل جزائر تین جوہری طاقتوں کو غیر مسلح ہونے پر مجبور کر سکیں گے۔ تاہم اس مجموعۂ جزائر کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں چلائی جانے والی مہم اس بات پر روشنی ڈالتی نظر آتی ہے کہ چھوٹی سیاسی طاقتیں بین الاقوامی ٹریبیونل کے ذریعے مقدمہ کرنے اور سماعت کا حق حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ تینوں ممالک یہ موقف اختیار کریں گے کہ مارشل جزائر کا دعویٰ ہیگ کی عالمی عدالت کے دائرۂ اختیار سے باہر ہے، اس لیے مقدمہ خارج کر دیا جائے۔

دوسری جانب کئی سماجی کارکن اور تعلیمی ماہرین سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کا عدالت تک پہنچنا بذات خود کسی کامیابی سے کم نہیں۔

مارشل جزائر سنہ 1986 تک امریکہ کے زیر انتظام تھے۔ محض 50 ہزار آبادی والے ان جزائر میں سنہ 1958 میں 67 جوہری تجربے کیے گئے تھے جن کے اثرات آج بھی وہاں محسوس کیے جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بھارت میں پوکھران کے مقام پر کیے گئے ایٹمی ہتھیاروں کے کامیاب ٹیسٹ کو جوہری میدان میں ملک کی ایک بڑی کامیابی گردانا گیا تھا۔

برطانیہ کی اوکسفرڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی قوانین کے پروفیسر ڈاپو آکانڈ کہتے ہیں کہ ’اس مسئلے کو دوبارہ سے موضوع بحث بنانا کامیابی ہو گی، اور ہم مارشل جزائر زیادہ سے زیادہ اسی کی امید رکھ سکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’جب مارشل جزائر عالمی عدالت انصاف میں جاتے ہیں تو وہ برطانیہ اور بھارت کے برابر ہو جاتے ہیں۔ اگر بڑے ملکوں کو تنازعات میں نہ گھسیٹا جائے تو وہ ان مسائل پہ توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔‘

جزائر کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے جوہری ہتھیاروں کی تخفیف پر مذاکرات کی ذمہ داری ادا نہ کر کے سنہ 1970 کے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ انھوں نے بھارت اور پاکستان پر بھی انھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔

مارشل جزائر نے ابتدا میں نو ممالک کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا جن میں چین، فرانس، روس، اور امریکہ کے ساتھ اسرائیل اور شمالی کوریا بھی شامل ہیں۔

عالمی عدالت انصاف میں صرف وہ تین ممالک حاضر ہوں گے جنھوں نے اس مقدمے کا جواب دینے کی ہامی بھری ہے۔

ایک اور مقدمے میں سمندری سطح میں اضافے کے خطرے کا شکار بحر اوقیانوس کا جزیرہ سٹیٹ آف پلاؤ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پر زور ڈال رہا ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے عالمی عدالت انصاف سے دنیا کے تمام ممالک پر عائد ہونے والی ذمہ داریوں پر مشاورت کرے۔

یاد رہے کہ بحر ہند میں واقع جزائر کومورس کی حکومت نے بھی عالمی عدالت انصاف سے سنہ 2010 میں فلسلطینی علاقوں میں کارکنوں کی جانب سے انسانی بنیادوں پر امداد لے جانے والے کومورس کے پرچم بردار بحری جہاز پر اسرائیلی حملے کی تفتیش کرنے کی درخواست کی تھی۔

اسی بارے میں