تارکینِ وطن کا راستہ بند کرنے کے لیے سلووینیا کے اقدامات

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption اس وقت ہزاروں تارکینِ وطن یونان کی سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں

یونان سے مغربی یورپ میں داخلے کے لیے بلقان روٹ کو بندکرنے کے لیے سلووینیا نے اپنی سرحدوں پر تارکینِ وطن کے لیے نئی پابندیوں کو متعارف کروایا ہے جس سے یونان سے مغربی یورپ میں داخلے کے لیے بلقان روٹ کو بند کرنے کی کوشش میں مدد ملے گی۔

’مدد نہ ملی تو سرحدیں بند کر دیں گے‘تارکینِ وطن کے خیمے جلا دیےگئے

اب سلووینیا میں انھیں تارکینِ وطن کو آنے کی اجازت دی جائے گی جو وہاں پناہ لینا چاہتے ہیں یا پھر جنھیں حقیقی معنوں میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کی ضرورت ہوگی۔

اس اقدام کے ردعمل میں سربیا نے کہا ہے کہ وہ بھی میسی ڈونیا اور بلغاریا سے متصل اپنی سرحدوں کو ان تارکینِ وطن کے لیے بند کر دے گا جن کے پاس درست دستاویزات نہیں ہوں گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز ہی ترکی اور یورپی یونین نے تارکینِ وطن اور پناہ گزینوں کی یورپ آمد روکنے کے ایک منصوبے کے مجموعی ڈھانچے پر اتفاق کیا ہے تاہم حتمی فیصلے کو موخر کر دیا گیا ہے۔

گذشتہ روز یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا تھا کہ یورپ کی جانب ’بےضابطہ ہجرت‘ کے دن پورے ہو چکے ہیں اور اب ایسے تارکینِ وطن کے لیے یورپ میں کوئی جگہ نہیں۔

یورپی یونین کے پاسپورٹ فری شینگن زونکا مستقبل پہلے ہی خطرے میں ہے۔

یورپی یونین کے آٹھ رکن ممالک جن میں آسٹریا، ہنگری اور سلواکیا شامل ہیں نے اپنے سرحدی کنٹرول کو سخت کر دیا ہے اور ہزاروں تارکین وطن یونان کی سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں۔

جرمنی اور شمالی یورپ کی ریاستوں تک جانے کے لیے کوشاں پناہ گزین سلوینیا سے گزر کر جاتے ہیں تاہم گذشتہ روز سلووینیا کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ بلقان کا راستہ اب پراثر انداز میں بند ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گرینج کے وقت کے مطابق یہ پابندیاں شب 11 بجے لاگو ہو جائیں گی اور یہ غیر قانونی پناہ گزینوں کو واپس بھجوانے کے لیے بلقان ریاستوں اور یونان کی جانب سے ترکی سے کیے جانے والے تعاون کا حصہ ہے۔

2000 سے زیادہ تارکین وطن روزانہ کی بنیاد پر ترکی سے یونان آتے ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق شام، عراق اور افغانستان سے ہے۔

گذشتہ روز برسلز میں اجلاس کے بعد یورپی یونین کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ بہت حد تک اس منصوبے کے وسیع اصولوں پر رضامند ہیں تاہم انھیں معاہدے کی تفصیلات پر کام کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

خیال رہے کہ یہ مذاکرات 17 اور 18 مارچ کو ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس سے قبل تک جاری رہیں گے۔

اسی بارے میں