ٹرمپ کی حمایت میں ہندو، سکھ اور مسلمان

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

رپبلکن پارٹی کی ریس میں سب سے آگے چلنے والے ڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں کے خلاف اور صرف سفیدفام قوم کی نمائندگی کرنے والے امیدوار کی طرح اب تک نظر آئے ہیں، لیکن اب کچھ ہندو، مسلمان اور سکھ ان کی حمایت میں اتر کر اس تاثر کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایک ہندو گروپ نے تو جوش میں آکر ٹرمپ کو دیوی دیوتاؤں کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔ ہندوز فار ٹرمپ (Hindus For Trump) کے نام سے اپنا فیس بک پیج اور ٹوئٹر ہینڈل چلانے والے اس گروپ نے ٹرمپ کو ہندوؤں کے بھگوان برہما یا وشنو کی طرح پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

ٹرمپ کو یوگا کی پوزیشن میں کنول کے پھول پر بیٹھا دکھایا ہے جس پر ’اوم‘ کا نشان بنا ہوا ہے۔

ان کے فیس بک صفحے پر ٹرمپ سے نفرت کرنے والوں کے لیے ایک پیغام بھی ہے جس میں کہا گیا ہے: ’ٹرمپ امریکہ کو پھر سے عظیم بنانے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے زیادہ روزگار، جنگ کی کم سے کم باتیں، مضبوط معیشت، محفوظ سرحدیں اور قانونی طور پر یہاں آنے والے لوگوں کے لیے بہتر زندگی۔ وہ جیتنے جا رہے ہیں اور آپ تاریخ کے غلط سائیڈ کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘

امریکہ میں ہندوؤں کے حق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے ’ہندو امریکن فاؤنڈیشن‘ کا کہنا ہے کہ ایک غیر سرکاری ادارہ ہونے کی وجہ سے وہ کسی امیدوار کی حمایت نہیں کرتے لیکن ٹرمپ کو ایک ہندو دیوتا کی طرح دکھائے جانے کے خلاف ان کے پاس کئی شکایات آئی ہیں۔

ادارہ کے ایک ترجمان جے كنسارا نے بی بی سی کو بتایا ’لوگوں نے اس دھڑے کے ٹویٹر ہینڈل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے لیکن ان کا کوئی جواب نہیں ملا ہے۔‘

ایک اندازہ ہے کہ امریکہ میں ہندوؤں کی آبادی بیس سے پچیس لاکھ تک ہے۔ نیو جرسی میں رہنے والے کچھ بھارتی نژاد امریکی بھی ٹرمپ کی حمایت میں آئے ہیں لیکن وہ اسے ایک ہندو گروہ نہیں بلکہ بھارتی نژاد امریکیوں کے دھڑے کی طور پر پیش کر رہے ہیں۔

’انڈین امریکنز فار ٹرمپ 2016‘(Indian Americans for trump)نامی اس گروپ کے ایک رکن سدھیر پاریکھ کا کہنا ہے کہ وہ ٹرمپ کی حمایت اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ ان میں رپبلكنز اور ڈیموكریٹس دونوں ہی کے ساتھ کام کرنے کی قابلیت ہے۔

سدھیر پاریکھ ایک کامیاب ڈاکٹر ہیں اور پاریکھ ورلڈ میڈیا کے مالک ہیں، جو کئی چھوٹے چھوٹے اخبار نکالتا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’اب ٹرمپ کو روکنا مشکل ہے۔ ہماری قوم میں سے زیادہ تر لوگ ہلری کلنٹن کا ساتھ دے رہے ہیں اور ایسے میں ضروری ہے کہ کوئی دوسری سائیڈ کے ساتھ بھی کھڑا ہو جس سے واشنگٹن تک ہماری رسائی بنی رہے۔‘

بھارت یا بر صغیر سے یہاں آکر آباد ہونے والے زیادہ تر لوگ روایتی طور پر ڈیموکریٹس کے ساتھ رہے ہیں لیکن اکثر وہ پارٹی لائن سے ہٹ کر امیدوار کی طرف جھکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش ہندوستانیوں کے درمیان کافی پسند کیے جاتے تھے کیونکہ انھوں نے بھارت کے ساتھ جوہری معاہدے کی بنیاد رکھی تھی اور اسے اپنے انجام تک پہنچایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جارج ڈبلیو بش ہندوستانیوں کے درمیان کافی پسند کیے جاتے تھے

سدھیر پاریکھ کہتے ہیں کہ ان کا گروپ ہندوؤں کی نمائندگی نہیں کر رہا ہے لیکن بہت سے ہندو اداروں کی انھیں سپورٹ مل رہی ہے۔ تو اس کی وجہ کیا ہے کہ ہندو ٹرمپ کا ساتھ دے رہے ہیں؟

پاریکھ کہتے ہیں ’ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ نے مسلمانوں کے خلاف جو بیان دیا ہے وہ انھیں پسند آیا ہو لیکن صرف یہی ایک وجہ ہو ایسا بھی نہیں ہے۔‘

ٹرمپ نے اپنی ریلیوں میں تمام مسلمانوں کے امریکہ میں گھسنے پراس وقت تک پابندی لگائے جانے کی وکالت کی ہے’جب تک یہ پتہ نہ چل جائے کہ یہ ماجرا کیا ہے۔‘

اس بیان پر دنیا بھر میں نکتہ چینی ہوئی ہے لیکن ٹرمپ کا ساتھ دینے والے ایک مسلم گروپ نے کہا ہے کہ ان کے بیانات کو میڈیا نے توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔

پاکستانی نژاد امریکی ساجد طرار خود کو ’امریکن مسلمز فار ٹرمپ‘ (American Muslim for Trump)کہلانے والے گروپ کے سربراہ بتاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ شام جیسے ملکوں سے امریکہ آنے کی کوشش کرنے والے لوگوں کے لیے جس طرح کی سخت جانچ کی بات کر رہے ہیں وہ پوری طرح سے اس کے حق میں ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’میں خود بھی ایک امریکی ہوں اور میری سمجھ سے امریکہ کو سب سے اوپر رکھنے کی ضرورت ہے۔ میں نہیں چاہتا ہوں کہ کوئی بھی یہاں گھس آئے اور امریکہ کے خلاف کام کرے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے امریکی جمہوریت کو ایک نئی شناخت دینے کی کوشش کی ہے کیونکہ وہ اپنی انتخابی مہم میں نہ تو کسی کا پیسہ لے رہے ہیں اور نہ ہی صرف اپنا مطلب نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بھارتی شہر اندور سے تیس برس قبل امریکہ آکر آباد ہونے والے جسديپ سنگھ کے خیال ان سے کافی ملتے جلتے ہیں۔ انھوں نے امریکن سكھز فار ٹرمپ‘ (American Sikhs for Trump) کا آغاز کیا ہے۔’ٹرمپ امریکہ کو پھر سے عظیم بنانے کی بات کر رہے ہیں اور میں مکمل طور پر ان کے ساتھ ہوں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ قانونی طریقے سے امریکہ آنے والوں کے خلاف نہیں ہیں، وہ صرف غیر قانونی طریقے سے یہاں آنے والوں کے خلاف ہیں۔

سنگھ کا کہنا ہے ’ان کا بھارت سمیت دنیا بھر کے ملکوں میں کاروبار ہے۔ وہ دوسرے ملکوں اور ان کی روایتوں کو جتنا بہتر سمجھتے ہیں اتنا کوئی امیدوار نہیں سمجھتا ہے۔‘

زیادہ تر امریکی سکھ یا مسلمان جسديپ سنگھ یا ساجد طرار کی باتوں سے شاید ہی اتفاق رکھتے ہوں اور دونوں کو اس بات کا احساس بھی ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ جب رپبلكن امیدوار بن جائیں گے تب لوگوں کو سمجھ میں آئے گا کہ جو باتیں وہ کر رہے ہیں وہ غلط نہیں ہیں۔

اسی بارے میں