ایم ایچ 370 کی تلاش، دو برس بعد بھی ’امید‘ باقی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایم ایچ 370 طیارے پر سوار 12 چینی باشندوں کے اہل خانہ نے بیجنگ میں مقدمہ دائر کیا ہے کہ عدالت انھیں بتائے کہ اس طیارے کے ساتھ کیا ہوا

ملائیشیا اور آسٹریلیا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ دو سال قبل لاپتہ ہو جانے والے طیارے ایم ایچ 370 کی تلاش کے بارے میں پرامید ہیں۔

یہ طیارہ جس پر 239 افراد سوار تھے، کوالالمپور اور بیجنگ کے درمیان پرواز کے دوران آٹھ مارچ سنہ 2014 کو غائب ہو گيا تھا۔

آسٹریلیا کی سربراہی میں ایک ٹیم بحر ہند کے جنوبی حصے میں تقریباً سوا لاکھ مربع کلومیٹر کے علاقے میں تلاش کا کام کر رہی ہے۔

دو سال میں ابھی تک طیارے کے پر کا صرف ایک مصدقہ حصہ ’فلیپرن ری یونین‘ جزیرے پر ملا ہے۔

اس تلاش کی مہم میں آسٹریلیا، چین اور ملائیشیا کے ماہرین شامل ہیں اور ابھی تک اس پر 13 کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ کے اخراجات آ چکے ہیں۔

یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا ہے تو اسے رواں سال کے اختتام تک بند کر دیا جائے گا لیکن مسافروں کےبعض رشتے داروں کی خواہش ہے کہ تلاش جاری رہنی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایم ایچ 370 طیارے کے غائب ہونے کی دوسری برسی پر ایک عبوری رپورٹ جاری کی جائے گي

ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق نے منگل کو کہا کہ وہ پراسرار طور پر غائب ہونے والے طیارے کے حل کے لیے پرامید ہیں لیکن شہری ہوابازی کی تاریخ میں یہ تلاش مشکل ترین تھی۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’ہم اپنے وسائل کے اندر اس طلسم کو حل کرنے کے لیے ہر ممکنہ کوشش کرنے کے پابند ہیں تاکہ جنھوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے انھیں تسکین پہنچے۔‘

آسٹریلیا میں ٹرانسپورٹ کے وزیر ڈیرن چیسٹر نے بھی طیارے کے سراغ ملنے کی امید کا اظہار کیا ہے کہ ’اس کی بازیابی سے دنیا کو اور بطور خاص ان پر سوار لوگوں کے اہل خانہ کو یہ علم ہوگا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا۔‘

ایم ایچ 370 طیارے پر سوار 12 چینی باشندوں کے اہل خانہ نے بیجنگ میں مقدمہ دائر کیا ہے کہ عدالت انھیں بتائے کہ اس طیارے کے ساتھ کیا ہوا۔

ان کے وکیل ژانگ چیہوئی نے کہا کہ وہ بہت سے نقصانات کی تلافی چاہتے ہیں جبکہ ان کے مقدمے کا مقصد یہ جاننا ہے کہ حادثے کی وجہ کیا تھی اور اس کے ذمہ دار کون ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بعض اہل خانہ چاہتے ہیں کہ تلاش جاری رکھی جائے

32 مسافروں کے اہل خانہ نے ملائشیا میں ایک علیحدہ مقدمہ دائر کر رکھا ہے اور بین الاقوامی معاہدے کے مطابق رشتے داروں کو کسی فضائی حادثے کے دو سال تک قانونی چارہ جوئی کا حق ہوتا ہے۔

آسٹریلوی ٹرانسپورٹ سیفٹی بیورو کے مارٹن ڈولن کا کہنا ہے کہ انھیں طیارے کا ایک مشتبہ ٹکڑا موزمبیق سے آئندہ ہفتے تک مل جائے گا جس کی ماہرین جانچ کریں گے۔

حادثے کے متعلق ایک عبوری رپورٹ منگل کو جاری کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں