ڈونلڈ ٹرمپ مزید تین ریاستوں میں کامیاب

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس سے قبل ریپبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے لوزیانا اور کینٹکی میں کامیابی حاصل کی تھی

امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کا صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ تین مزید ریاستوں مشی گن، مسیسپی اور ہوائی سے بھی کامیاب ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک جماعت میں جاری امیدواروں کی دوڑ میں برنی سینڈرز نے غیر متوقع طور پر مشی گن میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ مسیسپی میں ایک بڑی جیت کے ساتھ ہلیری کلنٹن کی مجموعی برتری میں اضافہ ہوا ہے۔

آئی ڈاہو میں ریپبلکن جماعت کے امیدواروں میں سے ٹیڈکروز کوکامیابی ملی ہے۔

یہ ریاستیں رواں سال نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں دونوں جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان اندرونی سطح پر تمام ریاستوں میں جاری انتخابات کا حصہ تھیں۔

امریکی ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے مارکو رُوبیو کے لیے یہ بہت مشکل رات تھی۔ مشی گن اور مسیسپی میں وہ چوتھے نمبر پر جگہ حاصل کرسکے جبکہ اگلے ہی ہفتے ان کی اپنی ریاست فلوریڈا میں انتخابات ہیں جہاں ان کے لیے کامیابی حاصل کرنا ضروری ہے۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق فلوریڈا میں کاروباری شخصیت ٹرمپ کو برتری حاصل ہے جبکہ ماضی میں وہ کبھی کسی عوامی عہدے کے لیے منتخب نہیں ہوئے۔ منگل کی رات اپنی جیت کی تقریر انھوں نے فلوریڈا سے ہی کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ریپبلکن جماعت میں جیت کی صورت میں ٹرمپ کا ممکنہ سامنا سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے ہوسکتا ہے

فلوریڈا کے شہر جیوپیٹر میں پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ایک بات کی مجھے سب سے زیادہ خوشی ہے کہ لوگ بہت بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے آئے تھے۔ میرے خیال میں آج یہ سب سے بڑی سیاسی خبر ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ابراہیم لنکن کے بعد صدارت کے لیے سب سے زیادہ موزوں شخصیت میں ہوں گا اور مجھ سے زیادہ قدامت پسند کوئی بھی نہیں ہوگا۔‘

ریپبلکن جماعت میں جیت کی صورت میں ٹرمپ کا ممکنہ سامنا سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سے ہوسکتا ہے۔

مسیسپی میں جیت کے بعد اپنے ووٹروں سے اوہائیو میں خطاب کرتے ہوئے کلنٹن کا کہنا تھا کہ ’صدارتی امیدواروں کی دوڑکا حصہ ہونے کا مطلب دوسروں کی بے عزتی کرنا نہیں ہونا چاہیے۔

’بلکہ یہ نتائج دینے کے بارے میں ہونا چاہیے۔‘

اسی بارے میں