’خودکش بمبار‘ کی ویڈیو پر لوگ برہم

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption س فلم کو اب تک ہزاروں بار دیکھا جاچکا ہے

سعودی عرب کے کچھ نوجوانوں کی جانب سے یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی ایک پرینک ویڈیو کو لوگ غیر ذمہ دارانہ قرار دے رہے ہیں جس میں ایک نقلی خود کش بمبار کو دکھایا گیا ہے۔

اس فلم کے آغاز میں ایک باریش ٹیکسی ڈرائیور جس نے روایتی سعودی لباس پہن رکھا ہے کیمرے کی جانب دیکھ کر کہتا ہے کہ اب ہم اپنے شکار کا انتخاب کریں گے۔

اس کے بعد پوشیدہ کیمرے سے بنائی گئی اس فلم میں ایک نوجوان مسافر کو ڈرائیور سے سلام دعا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن جلد ہی یہ فلم ایک خطرناک موڑ لیتی ہے۔

ڈرائیور نوجوان سے پوچھتا ہے کہ ’آپ جہاد کے بارے میں کیا خیالات رکھتے ہیں۔‘

اس کے ساتھ ہی ڈرائیور اپنے لباس کے بٹن کھول کر اپنے جسم پر بندھی خود کش جیکٹ مسافر کو دکھاتا ہے۔

یہ مناظر دیکھ کر مسافر خوف کی وجہ سے رونا شروع کر دیتا ہے۔ مسافر کے خیال میں اس کی زندگی کچھ لمحوں میں ختم ہونے والی ہے۔

اس کے بعد فلم میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈرائیور ہنستے ہوئے پوشیدہ کیمرے کی جانب اشارہ کرتا ہے اور مسافر کو بتاتا ہے کہ ’ ہم آپ سے مذاق کر رہے تھے تاکہ آپ کو دکھایا جا سکے کہ دہشت گردی کیسی ہوتی ہے۔‘

تین منٹ دورانیے کی اس ویڈیو میں دیگر مسافروں کو بھی اس ساری صورتحال سے گزرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس فلم کو اب تک ہزاروں بار دیکھا جا چکا ہے۔

سماجی رابطوں کی سائٹ پر صارفین کی جانب سے پوسٹ کیے گئے کمنٹس میں اس فلم کے بارے میں برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ایک شخص نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’اگر مسافر کو دل کا عارضہ لاحق ہوتا تو اس ویڈیو کے بہت خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔‘

اسی بارے میں