برطانوی دکانوں میں گائے کے پیشاب کی فروخت

Image caption برطانوی دکانوں میں جن بوتلوں میں گاؤ موتر فروخت کیا جاتا ہے ان پر لگے لیبل ہندی زبان میں ہیں جن کے مطابق یہ گائے کا پیشاب ہے اور مذہبی نوعیت کے استعمال کے لیے ہے

بی بی سی کے ایشیئن نیٹ ورک کو معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ میں کچھ دکانوں میں اشیائے خورد و نوش کے ساتھ گائے کا پیشاب بھی فروخت کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی کا ایک رپورٹر ’گاؤ موتر‘ کے نام سے معروف پیشاب خریدنے میں کامیاب رہا۔ اسے فروخت کرنے والی دکانوں کے مالکان میں سے کچھ کا تعلق جنوبی ایشیا سے ہے۔

ایسی ہی ایک دکان میں جس شیلف میں گائے کا پیشاب فروخت کے لیے رکھا گیا تھا اس کے نیچے والے شیلف میں نان موجود تھے۔

ایک دکان میں موجود سیلز مین نے کہا: ’ہندو مذہبی وجوہات کی بنیاد پر یہ خریدنے آتے ہیں، اگر گھر میں بچہ پیدا ہو تو اسے خوش قسمتی کے لیے گھر میں ہونے والی تقریب میں استعمال کیا جاتا ہے۔‘

یہ ’گاؤ موتر‘ صرف دکانوں پر ہی دستیاب نہیں بلکہ اسے واٹفرڈ میں واقع ہری کرشنا مندر کے تحت ایک ڈیری فارم پر یاتریوں کے لیے خصوصی طور پر جمع کیا جاتا ہے۔

مندر کے مینیجنگ ڈائریکٹر گوری داس کا کہنا ہے کہ ’ہم گائے کا نتھارا ہوا پیشاب 1970 کی دہائی سے فروخت کر رہے ہیں۔ جنوبی ایشیائی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد میں اس کی مانگ ہے۔ وہ اسے پوجا اور طبی مقاصد کے علاوہ چیزوں کو پاک کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Mansi Thapliyal
Image caption برطانیہ کی فوڈ سٹینڈرڈز ایجنسی نے کہا ہے کہ انسانی استعمال کے لیے گائے کا پیشاب فروخت کرنا غیر قانونی ہے

اس مندر میں کام کرنے والے پردیپ گاؤ موتر پیتے ہیں اور اس سوال پر کہ اس کا ذائقہ کیسا ہے ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ کڑوا اور کچھ دوا جیسا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ دن میں تین مرتبہ اسے پیتے ہیں اور یہ نظامِ ہضم کی بہتری کے لیے بہت اچھا ہے۔

برطانیہ کی فوڈ سٹینڈرڈز ایجنسی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’انسانی استعمال کے لیے گائے کا پیشاب فروخت کرنا غیر قانونی ہے، تاہم اگر اسے بیرونی استعمال جیسے کہ جسم پر چھڑکنے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ اس کا بطور خوراک استعمال نہیں اور اس لیے خوراک سے متعلقہ قوانین کے تحت نہیں آتا۔‘

خیال رہے کہ ہندو مذہب میں گائے کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔

برطانوی دکانوں میں جن بوتلوں میں گاؤ موتر فروخت کیا جاتا ہے ان پر لگے لیبل ہندی زبان میں ہیں جن کے مطابق یہ گائے کا پیشاب ہے اور مذہبی نوعیت کے استعمال کے لیے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ india
Image caption ہندو مذہب میں گائے کو مقدس سمجھا جاتا ہے

گوری داس کا بھی کہنا ہے کہ وہ انسانی استعمال کے لیے پیشاب فروخت نہیں کرتے۔ ’یہ تو پجاری پر منحصر ہے کہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیشاب کے انسانی استعمال پر تنقید منافقت ہے۔ ’جب آپ گائے کی زبان یا دم کھا سکتے ہیں تو پیشاب کے استعمال میں کیا قباحت ہے؟‘

برطانیہ کے چارٹرڈ انسٹیٹیوٹ آف انوائرمنٹل ہیلتھ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’اگر گائے کا پیشاب انسانی استعمال کے لیے فروخت کیا جاتا ہے تو فروخت کنندہ کو ثابت کرنا ہوگا کہ یہ محفوظ ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو انھیں یہ نہیں فروخت کرنا چاہیے۔‘

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہمارا مشورہ یہی ہے کہ کسی بھی صورت میں گائے کے پیشاب کو ایسی جگہ فروخت نہیں کیا جانا چاہیے جہاں اشیائے خورد و نوش موجود ہوں۔‘

اسی بارے میں