صومالیہ میں الشباب کے خلاف امریکی فوج کی کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption الشباب صومالیہ میں کٹر اسلامی قوانین کا نفاذ چاہتی ہے

امریکی حکام کے مطابق امریکہ کے خصوصی فوجی دستوں نے صومالی فوج کے ساتھ مل کر الشباب نامی اسلامی شدّت پسندگروپ کے خلاف ایک کارووائی میں حصہ لیا ہے۔

الشباب نے کہا تھا کہ اُس نے غیرملکی افواج کے حملوں کا ’مقابلہ‘ کیا تھا لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بُدھ کے روز کی گئی اس کارروائی میں متعدد شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔

کئی ممالک کی جانب سے الشباب کی شورش سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں صومالی حکام کی مدد کی جارہی ہے۔

چند روز قبل ہی امریکہ نے کہا تھا اُس نے الشباب کے تربیتی کیمپ پر فضائی حملے کیے ہیں۔

الشباب کا کہنا ہے کہ اس جھڑپ کے دوران اُن کا ایک جنگجو ہلاک ہوا ہے جبکہ ایک صومالی عہدیدار نے حملے میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی تعداد 15 بتائی ہے۔

ایک صومالی انٹیلی جنس عہدیدار نے امریکی خبری ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ کارووائی کا مقصد ایک خاص ’اعلیٰ سطح کے‘ انفرادی شدت پسند کو نشانہ بنانا تھا جو اس حملے میں ہلاک ہوگئے۔

صومالیہ میں افریقی یونین مشن کی جانب سے اس تازہ کارروائی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

آپریشن میں اوڈیگیل کے علاقے کے قریب موجود الشباب کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا۔ اوڈیگیل، دارالحکومت موغا دیشو کے جنوب میں تقریباً 50 کلومیٹر (30 میل) کے فاصلے پر موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

الشباب کے ترجمان شیخ عبید ابو مُصب نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ’انھوں نے نقاب پہن رکھے تھے اور وہ غیر ملکی زُبانیں بول رہے تھے جو کہ ہمارے جنگجو نہیں سمجھ سکتے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر شیبل دریا کے کناروں پر اُترے اور طیارے میں موجود کمانڈروں نے اُن کے ٹھکانے کی جانب پیش قدمی کی۔

انھوں نے امریکی افواج کی جانب سے استعمال کیے گئے ہتھیاروں کے متعلق بات کرتے ہوئے روئٹرز کو بتایا کہ اُن کے پاس راکٹ لانچرز اور ایم 16 رائفلیں تھیں۔

اوڈیگیل ضلع کے کمشنر محمد اویس نے بی بی سی کو بتایا ’ہیلی کاپٹر زمین پر کارووائی کرنے والی خصوصی فوجیوں کو فضائی مدد فراہم کررہے تھے۔‘

علاقے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ وہاں مسلح لڑائی ہوئی اور گروپ نے پورے علاقے کو بند کردیا تھا اس لیے اس بات کی تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے کہ وہاں کتنا جانی نقصان ہوا۔

الشباب ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے اقتدار کے منصب پر فائز مغربی حمایت یافتہ صومالی حکومت سے برسرِپیکار ہے۔ مقامی فورسز جو الشباب کے خلاف لڑ رہے ہیں اُنھیں ایک افریقی یونین کے مشن کی حمایت حاصل ہے جو کہ کئی افریقی ممالک کی افواج پر مشتمل ہے۔

اسی بارے میں