بڑھتی آبادی کے مسئلے کا حل کیا ہے؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

اقوامِ متحدہ کے مطابق اب دنیا کی 54 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔

اندازہ ہے کہ سنہ 2050 تک یہ اعداد و شمار 66 فیصد ہو جائیں گے، جب پوری دنیا کی آبادی تقریباً 9.6 ارب تک پہنچ جائے گی۔

اس کا مطلب ہے کہ جگہ کا مسئلہ پیدا ہو گا اور اس کا اثر ماحول پر بھی پڑےگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چین نے انسانی تاریخ کی سب سے تیز ’اربانائزیشن‘ دیکھی ہے

مثال کے طور پر شہری آبادی میں اضافے سے سبز علاقے ختم ہو سکتے ہیں، جبکہ زیادہ توانائی کے استعمال سے فضائی آلودگی بڑھے گی۔

اس ہجوم سے بچنے کا ایک حل عمودی شہروں کے زیادہ بنانے میں ہے جن میں رہائشی ایسی عمارتوں میں رہیں اور کام کریں گے جو جتنا ممکن ہو اونچی بنائی جا سکیں۔

اس خیال کے حامی کہتے ہیں کہ اس کا حل ہے کہ ’ہائی رائز‘ ڈیزائن بنانے چاہیں، جس میں زیادہ کثافت والی رہائش گاہیں بنائی جائیں اور جگہ کی قربانی دی جائے۔

سڈنی میں مقیم کیرن مکارتھر نے جو فنِ تعمیر پر لکھی جانے والی کتاب سپر ہاؤس کی مصنفہ ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ ماہرِ تعمیرات پہلے ہی ’مائیکرو ہوم‘ کی طرف رخ کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ رجحان چھوٹی جگہوں کا ہے، جو زیادہ سوچ سمجھ کر بنائی گئی ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نیو یارک میں بنائے گئے ایک نئے سٹوڈیو اپارٹمنٹ کا ڈیزائن

’سائز ہمیشہ مقصد نہیں ہے۔ ماہرِ تعمیرات ایسی چیزیں کر سکتے ہیں جو عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتے، جگہ کے استعمال کا طریقے بدل سکتے ہیں۔‘

دنیا میں کئی جگہوں پر ایک آدمی والا گھرانے رواج پا رہے ہیں، جس کی وجہ سے چھوٹے اپارٹمنٹس ماضی کی نسبت اب زیادہ قابلِ قبول ہوتے جا رہے ہیں۔

اونچی عمارتیں اور چھوٹے اپارٹمنٹس شہر کے رہائیشیوں کو زیادہ سبز علاقے مہیا کر سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ تصویر مضحکہ خیز لگتی ہے لیکن ڈیزائنرز اپنا پورا زور لگا رہے ہیں کہ کوئی ایسا حل نکالیں کہ بیڈ روم میں جگہ کو بچایا جا سکے

اور چھوٹی جگہوں سے بجلی اور ہیٹنگ کی بچت کی جا سکتی ہے، جس کی وجہ سے وہ سستی ہو سکتی ہیں جو ماحول کے لیے بھی اچھی ثابت ہوں گی۔

عمودی، زیادہ کثافت والی رہائش گاہوں کا ایک اور فائدہ روزہ مرہ کے سفر پر اثر بھی ہو سکتا ہے۔

افقی شہر میں بہت سی توانائی آمد و رفت، ڈاکٹر اور سکول سے لے کر پارک اور شاپنگ سینٹر تک جانے میں صرف ہو جاتی ہے۔

پتلا اور اونچا لینڈ سکیپ فاضلے کم کرتا ہے، جس کی وجہ سے شہری زندگی ایک دباؤ والا عنصر کم ہو جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لاگوس کو دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آباد شہر سمجھا جاتا ہے جس کی آبادی ایک کروڑ 40 لاکھ سے زیادہ ہے

کم آمدورفت سے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بھی کم ہو گا۔

لندن میں واقع رہائشی سکیمیں بنانے والی فرم پوکٹ کے پال ہاربرڈ کہتے ہیں جگہ کی ضرورت میں کم ہو رہی ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’ٹیکنالوجی تیزی سے مادی چیزوں کا متبادل فراہم کر رہی ہے جس کی وجہ سے کتابوں اور سی ڈیز جیسی بہت سی اہم روایتی چیزوں کے بغیر رہنا ممکن ہو گیا ہے۔‘

شہر کے رہائشیوں کو ان فوائد کا ان چیلنجز سے موازنہ کرنا ہے جو چھوٹے گھروں اور اونچی عمارتوں کے ساتھ آتے ہیں۔

ایک چھوٹے گھر کی جگہ بنانے کے لیے ماہرِ تعمیر کے ڈرائنگ بورڈ پر کون سی چیز کم کی جائے۔ ایک بیڈ روم، کچن یا ہال وے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لندن میں اونچی عمارتوں کی مخالفت کرنے والے بڑے لوگ ہیں

آبادی میں اضافے کے تناظر میں پرائیویسی کے مسئلے سے کس طرح نمٹا جائے گا۔

معاشرے کے کچھ طبقے شہر میں اونچی عمارتوں کی اس لیے بھی مخالفت کر رہے ہیں کہ اس سے شہر کی سکائی لائن خراب ہو گی۔

شہر کے منصوبہ سازوں، ڈیزائنروں اور رہائشیوں کو آبادی میں اضافے سے سامنے آنے والے چیلنجز سے نمٹنا ہے، اور اسے تیز کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ مستقبل کے شہر اس کے رہائشیوں کے لیے صحت مند جگہیں ہوں گی وقت تیزی سے گزرتا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں